برطانوی کنگ چارلس انتقال کر گئے؟16منٹ کا شاہی سناٹا!

نہال معظم
بادشاہوں اور حکمرانوں کے خلاف سازشوں، بغاوتوں اور زہر خورانیوں کی داستانوں سے تو تاریخ بھری پڑی ہے، لیکن انگلینڈ کا ایک بادشاہ صرف ایک جونیئر کمپیوٹر آپریٹر کی "فضول خارش” اور بٹن دبانے کے تجسس کا شکار ہو کر آن ایئر مارا گیا۔ جنوب مشرقی انگلینڈ کے ایک مقامی ریڈیو پر اچانک سنجیدہ آواز ابھری کہ شاہ چارلس سوم وفات پا چکے ہیں، فوراً بعد قومی ترانہ بجا اور پھر یکلخت سولہ منٹ کا ایسا پراسرار اور شاہی سناٹا چھا گیا جیسے پورا ملک ہی مفلوج ہو گیا ہو۔ دراصل سٹوڈیو میں ایک اسسٹنٹ آلات کی صفائی کرتے کرتے شاہی خاندان کی ہنگامی وفات کے لیے محفوظ کی گئی خفیہ فائلوں تک پہنچا اور محض یہ چیک کرنے کے لیے کہ ریکارڈنگ کیسی ہے، اس نے پلے کا بٹن دبا دیا۔ اسے خبر ہی نہ تھی کہ یہ آڈیو براہِ راست آن ایئر جا رہی ہے۔ غلطی کا اندازہ ہوتے ہی وہ بیچارہ حواس باختہ ہو کر سٹوڈیو چھوڑ کر ایسا بھاگا جیسے بادشاہ کا بھوت اس کے پیچھے لگ گیا ہو، جبکہ دور بیٹھے مین ہوسٹ کو انٹرنیٹ کی مانیٹرنگ سے پتہ چلا کہ اس کے ریڈیو پر تو ملکی بادشاہ کی رسمی میت اٹھائی جا چکی ہے۔
میڈیا کی اس دنیا میں جیتا جاگتا زندہ انسان کس طرح ایک سیکنڈ میں "مرحوم” بنتا ہے، یہ قصہ نیا ہرگز نہیں ہے۔ 2015 میں بی بی سی کی ایک صحافی نے شاہی معائنے کی روٹین ریہرسل کو سچ سمجھ کر ملکہ ایلیزابتھ دوم کی وفات کا ٹویٹ داغ دیا تھا اور پوری دنیا میں ہاہاکار مچ گئی تھی۔ 2008 میں مالیاتی دنیا کے سب سے بڑے ادارے بلومبرگ نے ایپل کے بانی سٹیو جابز کی زندگی ہی میں ان کی سترہ صفحات پر مشتمل لمبی چوڑی شوک خبر پبلک کر دی، جس پر جابز کو طنزاً کہنا پڑا کہ میری موت کی خبریں کچھ زیادہ ہی قبل از وقت ہیں۔ اس سے بھی بڑا تماشا 2003 میں سی این این کے ساتھ ہوا جب ان کی ویب سائٹ کے بیک اینڈ کا ایسا ڈبہ کھلا کہ نیلسن منڈیلا، فیدل کاسترو اور جارج بش کے شاندار تعزیتی مضامین ایک ساتھ نظر آنے لگے۔ صحافتی جلدی کا سب سے بڑا اور لازوال شاہکار 1948 میں شیکاگو ڈیلی ٹریبیون نے تخلیق کیا تھا، جس نے امریکی صدارتی انتخاب کا حتمی نتیجہ آنے سے پہلے ہی اپنے صفحہ اول پر بڑی سرخی چھاپ دی کہ ڈیوی نے ٹرومین کو ہرا دیا، جبکہ اگلے ہی لمحے الیکشن جیتنے والے صدر ہیری ٹرومین نے وہی غلط اخبار ہاتھ میں لہراتے ہوئے میڈیا کے منہ پر تاریخی تمانچہ جڑا تھا۔
ریڈیو کیرولائن کا یہ حالیہ ڈرامہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ میڈیا ہاؤسز چاہے جدید ترین ٹیکنالوجی اور کروڑوں کے سیکیورٹی پروٹوکولز لگا لیں، لیکن جب تک سٹوڈیو کے اندر انسان کا تجسس اور جلد بازی موجود ہے، بادشاہ سلامت یوں ہی بغیر بیمار ہوئے آن ایئر "آنجہانی” ہوتے رہیں گے اور میڈیا ہاؤسز معافیاں مانگتے رہیں گے۔



