پنجاب میں اینڈ ٹو اینڈ پیپر لیس نظام متعارف، 6 ہزار سے زائد سرکاری سسٹمز مرکزی نظام سے منسلک

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت نے صوبے کو اینڈ ٹو اینڈ پیپر لیس اور جدید آٹومیشن ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جامع ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن نظام متعارف کرا دیا ہے، جبکہ گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ، گورنمنٹ ٹو بزنس اور گورنمنٹ ٹو سٹیزن ڈیجیٹل سروسز کے فروغ پر تیزی سے کام جاری ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت ویڈیو لنک اجلاس ہوا، جس میں چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ فیصل یوسف نے صوبے میں پیپر لیس آٹومیشن اور ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ نے چیف سیکرٹری زاہد زمان اختر، سیکرٹری فنانس مجاہد شیر دل اور چیئرمین پی آئی ٹی بی فیصل یوسف کی کارکردگی کو سراہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب ای فائلنگ، ای پریکیورمنٹ، ای پے، ای آکشن، ون میپ، ایچ آر ایم آئی ایس اور ڈیٹا ویئر ہاؤس قائم کرنے والا پہلا صوبہ بن گیا ہے۔ صوبے بھر میں 6 ہزار سے زائد سسٹمز پی آئی ٹی بی کے مرکزی نظام سے منسلک ہوچکے ہیں، جبکہ ای فائلنگ کے ذریعے سرکاری امور کو ڈیجیٹل بنانے میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق ای فائلنگ سسٹم کے ذریعے اب تک 176,173 سمری نوٹس تیار کیے جاچکے ہیں، جبکہ سمارٹ مانیٹرنگ آف ڈویلپمنٹ پراجیکٹس کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور شفافیت کے لیے بھی جدید نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ای پریکیورمنٹ سسٹم سے صوبے بھر میں 25 ہزار سے زائد سپلائرز منسلک ہیں۔ اس نظام کے ذریعے 6 کھرب روپے سے زائد کی ڈیجیٹل خریداری اور 12 لاکھ 90 ہزار ٹینڈرز کا عمل مکمل کیا جاچکا ہے۔ اینڈ ٹو اینڈ ٹینڈرنگ کے باعث متعلقہ دفتر جائے بغیر شفاف انداز میں خریداری کا عمل ممکن بنایا گیا ہے۔
ای آکشن سسٹم پر 3,784 وینڈرز رجسٹرڈ ہیں، جبکہ اس نظام کے ذریعے مختصر مدت میں 527 ارب روپے کی ریونیو جنریشن ہوئی۔ پنجاب گورنمنٹ ڈیٹا ویئر ہاؤس میں 100 فیصد اوپن سورس ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے، جس سے لائسنسنگ فیس کی مد میں اربوں روپے کی بچت ممکن ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق ’’مریم کی دستک‘‘ پروگرام کے ذریعے 110 جبکہ ’’ای بز‘‘ کے ذریعے 434 کاروباری خدمات شہریوں اور کاروباری افراد کو فراہم کی جارہی ہیں۔ ای بز کے تحت دستاویزات کی جانچ پڑتال کے لیے مصنوعی ذہانت کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔
ای بز کے تحت 130,941 درخواست دہندگان میں سے 110,170 افراد کو مطلوبہ دستاویز یا سہولت فراہم کی جاچکی ہے۔ حکام کے مطابق درخواست جمع ہونے کے بعد 15 دن کے اندر سروس فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ اعتراضات کا جائزہ اعلیٰ سطحی کمیٹی لیتی ہے۔ اس نظام کے باعث 434 کاروباری خدمات کے حصول کے لیے شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں رہی۔
’’مریم کی دستک‘‘ سروس کے لیے پنجاب بھر میں 9,800 نمائندے سرگرم ہیں۔ حکام کے مطابق 10 دن کے اندر سروس فراہم نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ سیکرٹری نوٹس لے گا۔ پروگرام کے تحت 110 سروسز کے لیے 40 لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں، جبکہ 31 لاکھ سے زائد شہریوں کو گھر بیٹھے خدمات فراہم کی جاچکی ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اجلاس کے دوران ای بز کے تحت پٹرول پمپ اور فلور مل کے این او سی کے اجراء کا طریقہ کار خود بھی چیک کیا۔ انہوں نے پی آئی ٹی بی کو پیپر لیس آٹومیشن سافٹ ویئر درآمد کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے اور درخواست دہندگان سے مسلسل فیڈ بیک لینے کی ہدایت کی۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ اینڈ ٹو اینڈ آٹومیشن اور پیپر لیس نظام کرپشن کے خاتمے میں مؤثر ثابت ہوگا۔ حکومت کا مقصد شہریوں کو معمولی نوعیت کے کاموں کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کی زحمت سے نجات دلانا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈیجیٹل آٹومیشن کے ذریعے شناخت ظاہر کیے بغیر سروسز کی فراہمی سے کرپٹ عناصر کا کردار ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ پنجاب کے ہر سیکٹر، محکمہ اور ادارے کو ڈیجیٹلائزیشن کی راہ پر گامزن کیا جارہا ہے۔
مریم نواز شریف نے مزید کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن اور آٹومیشن کے لیے پوری ٹیم ایک یونٹ بن کر کام کررہی ہے۔ آٹومیشن سروسز سسٹم کے ذریعے شہریوں کا براہِ راست کسی اہلکار سے واسطہ کم سے کم ہوگا، جس سے سرکاری خدمات میں شفافیت اور سہولت کو یقینی بنایا جاسکے گا۔



