پی ٹی آئی لانگ مارچ: سرکاری وسائل کے استعمال اور مسلح افراد کی موجودگی کے دعوے

پشاور(جانوڈاٹ پی کے) پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور مسلح افراد کی موجودگی سے متعلق دعوے سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کے باوجود سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے لکی مروت پہنچے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 18 ستمبر کو پی ٹی آئی لانگ مارچ سے متعلق 37 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا۔ فیصلے میں صوبائی حکومتوں اور وزرائے اعلیٰ سمیت متعلقہ حکام کو سیاسی مارچ یا احتجاج کے لیے سرکاری وسائل استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق اسلام آباد کی جانب کسی مارچ یا سیاسی احتجاج کے لیے سرکاری فنڈز، گاڑیوں، ہیلی کاپٹرز، سرکاری اہلکاروں یا مشینری کا استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے پرامن احتجاج کو آئینی حق قرار دیتے ہوئے احتجاج کے دوران اسلحہ ساتھ لانے کی اجازت نہ ہونے کی بھی نشاندہی کی تھی۔
دوسری جانب انٹیلیجنس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض تصاویر میں پی ٹی آئی لانگ مارچ کے شرکاء کے درمیان سالٹ رائفلز سے لیس مسلح افراد دکھائی دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تصاویر میں ہتھیار کے ساتھ نظر آنے والے افراد میں سے ایک کی شناخت خارجی گل بہادر گروپ کے رکن شہیداللہ عرف غازی کے طور پر کی گئی ہے، جو مکین کا رہائشی بتایا جاتا ہے اور متعدد دہشت گرد حملوں میں ملوث رہنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
انٹیلیجنس ذرائع کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کی آڑ میں مبینہ طور پر موجود دیگر دہشت گرد عناصر کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔
تاہم، مسلح افراد کی موجودگی اور مذکورہ شخص کی شناخت سے متعلق انٹیلیجنس ذرائع کے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔



