ٹھٹھہ میں شاہد چانڈیو قتل کیس میں بڑی پیش رفت، دو ملزمان گرفتار

ٹھٹھہ (جاوید لطیف میمن)ٹھٹھہ پولیس نے ور شہر میں چار روز قبل زمین کے تنازع پر شہری شاہد چانڈیو کے قتل کے مقدمے میں کارروائی کرتے ہوئے دو مبینہ ملزمان کو گرفتار کرلیا، پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران واردات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
پولیس کے مطابق 26 ستمبر 2026 کو رات کے وقت ور شہر میں تین ملزمان نے مبینہ طور پر زمین کے تنازع پر شاہد چانڈیو کو پستول سے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا، جس کا مقدمہ نمبر 130/2026 زیر دفعات 302 اور 34 تعزیرات پاکستان کے تحت تھانہ گھوڑاباری میں مقتول کے بھائی محمد قاسم چانڈیو کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ٹھٹھہ عدیل حسین چانڈیو نے متعلقہ افسران کو ملزمان کی جلد گرفتاری کے احکامات جاری کیے، جس کے بعد سینئر پولیس افسران پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔
پولیس کے مطابق خصوصی ٹیم میں ایس ڈی پی او سب ڈویژن گاڑہو ڈی ایس پی جنید عباسی، ایس ایچ او تھانہ گھوڑاباری انسپکٹر ماجد علی کورائی، انچارج سی آئی اے ٹھٹھہ انسپکٹر فاروق راہپوٹو، ایس ایچ او تھانہ ساکرو انسپکٹر گلزار علی تنیو، انچارج ڈی آئی سی ٹھٹھہ انسپکٹر فیصل شفیع میمن اور انچارج پولیس پوسٹ پیر پٹھو سب انسپکٹر عمران خان شامل تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ٹیم نے جدید ٹیکنیکل ذرائع، پیشہ ورانہ حکمت عملی اور مؤثر تفتیش کے ذریعے کارروائی کرتے ہوئے قتل کے مقدمے میں نامزد دو مبینہ ملزمان سائیں بخش ولد محمد علی چانڈیو اور پرویز ولد سائیں بخش چانڈیو کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ سائیں بخش چانڈیو کے مبینہ طور پر بین الصوبائی جرائم پیشہ گروہ سے وابستہ ہونے اور ضلع ٹھٹھہ و کراچی میں 20 سے زائد سنگین وارداتوں میں ملوث ہونے کے دعوے کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے اور اس کا سابقہ کرمنل ریکارڈ طلب کرلیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق ملزم کے دیگر ممکنہ جرائم اور مقدمات سے متعلق معلومات بھی اکٹھی کی جا رہی ہیں تاکہ تفتیش کو مزید آگے بڑھایا جاسکے۔
ایس ایس پی ٹھٹھہ عدیل حسین چانڈیو نے کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کو شاباش دی اور اہلکاروں کو تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا ہے۔



