خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا آپشن زیر غور، طارق فضل چوہدری

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے)وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ پر مشاورت جاری ہے، جبکہ ایمرجنسی کے نفاذ کا آئینی طریقہ کار صدر مملکت اور پارلیمنٹ سے متعلق ہے۔پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ ایمرجنسی کی منظوری دے دیتی ہے تو آئینی طریقے سے اس کا نفاذ ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت چیف ایگزیکٹو کے اختیارات کسی بھی فرد کو تفویض کرسکتی ہے اور یہ اختیارات گورنر کو بھی دیے جاسکتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر ایمرجنسی کے نفاذ کے سیاسی اثرات سامنے آتے ہیں تو حکومت کو انہیں برداشت کرنا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ مشاورت میں خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال کو بھی مدنظر رکھا جارہا ہے۔پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق طارق فضل چوہدری نے دعویٰ کیا کہ بار بار کال کے باوجود تین صوبوں میں مطلوبہ تعداد میں لوگ جمع نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے بعد 4 اکتوبر کی تاریخ دی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر عوام نالاں ہیں اور دہشت گردی میں اضافے کو روکنا زیادہ ضروری ہے۔طارق فضل چوہدری نے مزید دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی 4 اکتوبر کو بھی لانگ مارچ کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل نہیں کرپائے گی اور پارٹی کے اندر دھڑے بندی و اختلاف رائے موجود ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کے اعلان پر قائم ہے، جبکہ پارٹی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے مارچ مؤخر کرنے کی تجاویز بھی سامنے آچکی ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button