ماتلی میں نجی ڈاکٹروں کا ایف بی آر کے نئے ٹیکس قوانین کے خلاف احتجاج

ماتلی (رپورٹ اے۔ایم ۔گدی) نجی ڈاکٹروں نے ایف بی آر کی جانب سے کلینکس میں نمائندے بٹھانے، مریضوں کی آمد اور او پی ڈی کی بنیاد پر ٹیکس عائد کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر پہلے ہی باقاعدگی سے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، اس کے باوجود نئے قوانین کے ذریعے انہیں مزید ٹیکس اور دباؤ کا سامنا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کلینکس میں ایف بی آر کے نمائندے بٹھا کر مریضوں کی نگرانی اور تعداد کی بنیاد پر ٹیکس عائد کرنے کا طریقہ کار طبی شعبے کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے، جس سے ڈاکٹر ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور اس کا بوجھ بالآخر مریضوں پر پڑے گا۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی اپیل پر ایف بی آر کے نئے ٹیکس قوانین کے خلاف ماتلی کے نجی ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے محمدی چوک سے ریلی نکالی جو پریس کلب کے سامنے پہنچ کر احتجاجی مظاہرے میں تبدیل ہوگئی، جہاں مظاہرین نے نئے ٹیکس قوانین کے خلاف نعرے بازی کی۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم اے ماتلی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک شیخ نے کہا کہ تمام ڈاکٹر فائلر ہیں اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، اس کے باوجود ایف بی آر کی جانب سے نئے قوانین کے تحت نجی کلینکس اور اسپتالوں پر اضافی ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلینکس میں ایف بی آر کے نمائندے بٹھانے اور مریضوں کی تعداد کی بنیاد پر ٹیکس کا تعین کرنے سے ڈاکٹروں کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں، جبکہ انہیں مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک شیخ نے کہا کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو ڈاکٹر اپنی فیسوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں، جس کا براہ راست اثر مریضوں خصوصاً غریب طبقے پر پڑے گا اور ان کے لیے علاج کرانا مزید مشکل ہوجائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نجی ڈاکٹروں اور اسپتالوں پر عائد نئے ٹیکس اور متعلقہ قوانین واپس لیے جائیں۔ احتجاج میں ڈاکٹر آفتاب اعوان، ڈاکٹر کریم بخش نظامانی، ڈاکٹر مشتاق نظامانی، ڈاکٹر راجا اڈیجو، ڈاکٹر مقبول میمن، ڈاکٹر سنی، ڈاکٹر موہن لال، ڈاکٹر نورالدین کھٹی، ڈاکٹر منیر نظامانی، ڈاکٹر سرور کمبوہ اور دیگر ڈاکٹروں و پیرا میڈیکل اسٹاف نے شرکت کی۔

مزید خبریں

Back to top button