سندھ طاس معاہدہ صرف پانی کا نہیں،عالمی امن اورسلامتی کامعاملہ بن گیا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)سندھ طاس معاہدے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پانی کے تنازعات کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ جنوبی ایشیا میں امن، غذائی تحفظ اورخطے کے مستقبل کیلئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔سندھ طاس معاہدہ ایک بار پھرعالمی سطح پر زیر بحث آ گیا ہے، جس کے مستقبل کو ماہرین جنوبی ایشیا کے علاوہ عالمی امن اور استحکام سے بھی جوڑ رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان جبکہ راوی، بیاس اور ستلج کے پانیوں پر بھارت کو بنیادی حقوق حاصل ہیں۔ تاہم دونوں ممالک کو مشترکہ دریائی نظام سے متعلق مخصوص ذمہ داریاں بھی دی گئی ہیں۔پاکستان کے لیے سندھ طاس نظام صرف ایک سفارتی معاہدہ نہیں بلکہ معیشت، زراعت، خوراک کے تحفظ اور توانائی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دریاؤں کے بہاؤ میں کسی بھی طویل رکاوٹ کے اثرات زرعی پیداوار، صنعت اور عوامی زندگی پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانی کا مسئلہ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان نے بھی ماضی میں واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔ماہرین کے مطابق اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان آبی تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی غذائی تحفظ اور موسمیاتی استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔تحقیق کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کسی بڑے تنازع یا جنگ کی صورت میں عالمی سطح پر بھی سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں، جن میں زرعی بحران اور بڑے پیمانے پر انسانی نقصان شامل ہیں۔ماہرین زور دے رہے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کے تحفظ کے لیے عالمی برادری اور عالمی بینک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ پانی جیسے بنیادی وسائل کو سیاسی کشیدگی سے محفوظ رکھا جا سکے۔



