زیریں سندھ میں پانی کا قحط شدت اختیار کر گیا

ماتلی(رپورٹ:محمد راحم گدی جانو ڈاٹ ہے کے)زیریں سندھ میں پانی کا قحط شدت اختیار کر گیا، ضلع بدین میں چاول کی فصل، رائس ملز اور ہزاروں مزدوروں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے، زیریں سندھ کے ضلع بدین اور اس کے ملحقہ زرعی علاقوں میں نہری نظام میں پانی کی شدید قلت کے باعث رواں سیزن کی چاول کی کاشت بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، محکمہ آبپاشی کی جانب سے نہروں میں معمول سے تقریباً 50 فیصد کم پانی کی فراہمی کے باعث ماتلی، ٹنڈو غلام علی، تلہار، بدین، گولارچی، کڑیو گھنور، نندو شہر اور دیگر دیہی و زرعی علاقوں کی لاکھوں ایکڑ اراضی تاحال زیر کاشت نہیں آ سکی جس پر آبادگاروں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے، زرعی و آبادگار حلقوں کے مطابق ضلع بدین زیریں سندھ کے اہم زرعی اضلاع میں شمار ہوتا ہے جہاں ایری سکس (IRRI-6) سمیت چاول کی بڑے پیمانے پر کاشت کی جاتی ہے اور ہر سال یہاں سے لاکھوں ٹن چاول ملکی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے جس سے قومی معیشت اور زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں حصہ شامل ہوتا ہے، آبادگاروں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر نہری پانی کی فراہمی بہتر نہ بنائی گئی تو نہ صرف چاول کی فصل شدید متاثر ہوگی بلکہ ضلع بھر میں قائم سیکڑوں سے زائد رائس ملز بھی بندش یا بحران کا شکار ہو سکتی ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں مزدوروں، محنت کش خاندانوں اور چاول کی صنعت سے وابستہ کاروباری طبقے کا روزگار بھی خطرے میں پڑ جائے گا، دوسری جانب مرکزی نہروں سے نکلنے والی شاخوں اور ٹیل اینڈ یعنی آخری علاقوں تک پانی کی عدم فراہمی کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے جبکہ کئی دیہی علاقوں میں انسانی آبادی کے ساتھ ساتھ مویشیوں کے لیے بھی پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، متاثرہ علاقوں کے آبادگاروں نے حکومت سندھ اور محکمہ آبپاشی سے ہنگامی بنیادوں پر پانی کی فراہمی بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو زرعی معیشت، روزگار اور مقامی نظام شدید بحران کی طرف جا سکتا ہے۔



