ماتلی کا قدیمی سرکاری اسکول خستہ حالی کا شکار،325 طلبہ کی زندگیاں خطرے میں

ماتلی (رپورٹ: اے۔ایم۔گدی) گورنمنٹ بوائز لوئر سیکنڈری اسکول نظامانی محلہ ماتلی (SEMIS کوڈ: 401030649) کی عمارت انتہائی خستہ حالی کا شکار ہو کر 325 طلبہ اور اساتذہ کے لیے خطرے کی علامت بن گئی، 1994ء میں تعمیر ہونے والے ماتلی کے اس قدیمی سرکاری تعلیمی ادارے کی چھتوں کا پلاسٹر مسلسل گر رہا ہے جبکہ عمارت کی خستہ حالی کے باعث کسی بھی وقت بڑے حادثے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اسکول میں اس وقت 325 طلبہ زیر تعلیم ہیں، جبکہ عمارت صرف چار کلاس رومز اور ایک دفتر پر مشتمل ہے۔ اسکول میں تعینات اساتذہ میں بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ اور قابل اساتذہ پر مشتمل ہے، جو محدود اور انتہائی نامساعد حالات کے باوجود طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس سرکاری اسکول میں طلبہ کی موجودہ تعداد اور حاضری ماتلی کے متعدد دیگر سرکاری اسکولوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اس قدیمی تعلیمی ادارے نے معاشرے کو متعدد قابل اور ہونہار ڈاکٹر، انجینئر اور وکیل فراہم کیے ہیں، جبکہ آج بھی یہاں زیر تعلیم 325 بچے بہتر تعلیمی مستقبل کی امید لیے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، تاہم اسکول کی خستہ حال عمارت نے طلبہ، والدین اور اساتذہ کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اسکول انتظامیہ اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے متعدد مرتبہ محکمہ تعلیم کے افسران کو تحریری طور پر اسکول کی خستہ حالی، چھتوں سے گرنے والے پلاسٹر اور ممکنہ حادثے کے خطرے سے آگاہ کیا جا چکا ہے، مگر تاحال کوئی مؤثر اور مستقل اقدام نہیں کیا گیا۔ والدین اور علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر اسکول کی عمارت کی فوری تعمیر نو نہ کی گئی اور خستہ حال چھتوں کا مسئلہ حل نہ ہوا تو خدانخواستہ کسی حادثے کے بعد والدین اپنے بچوں کو اس اسکول سے نکال کر دیگر تعلیمی اداروں میں داخل کرانے پر مجبور ہو سکتے ہیں، جس سے سرکاری اسکولوں میں حالیہ برسوں کے دوران بہتر ہونے والے داخلوں کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ شہریوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے ’’سندھ پڑھے گا، سندھ بڑھے گا‘‘ جیسے تعلیمی وژن کے تحت سرکاری اسکولوں میں بچوں کے داخلوں کو فروغ دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن اگر سرکاری اسکولوں کی عمارتیں خستہ حالی کا شکار رہیں اور بچوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہوں تو والدین کا سرکاری تعلیمی اداروں سے اعتماد اٹھ سکتا ہے۔ علاقہ مکینوں نے وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ، سیکریٹری تعلیم اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گورنمنٹ بوائز لوئر سیکنڈری اسکول نظامانی محلہ ماتلی کی خستہ حال عمارت کو ترجیحی بنیادوں پر نئے سرے سے تعمیر کیا جائے، کیونکہ یہ اسکول ماتلی کے اہم اور قدیمی تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے اور اس وقت بھی بڑی تعداد میں بچے یہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ شہریوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری توجہ نہ دی گئی تو ممکنہ حادثے کے علاوہ والدین اپنے بچوں کی سلامتی کے پیش نظر انہیں اسکول سے نکالنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، جس سے نہ صرف بچوں کی تعلیم متاثر ہوگی بلکہ سرکاری اسکولوں میں بحال ہونے والا عوامی اعتماد بھی مجروح ہونے کا خدشہ ہے.



