روس کی سعودی عرب کو بڑی پیشکش، مشرق وسطیٰ تنازع میں ثالثی کا عندیہ

ماسکو (جانو ڈاٹ پی کے) روس نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تنازع کے تناظر میں سعودی عرب کو ثالثی اور صورتحال سے نمٹنے کی کوششوں میں تعاون کی پیشکش کردی۔
خبر ایجنسی کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ روس مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو سنبھالنے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں دلچسپی رکھتا ہے۔
سعودی عرب اور روس میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
گفتگو کے دوران سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اوپیک پلس کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون تیل کی رسد اور طلب میں توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔
فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب روس کے ساتھ مزید شراکت داری اور تعاون کا خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون عالمی توانائی کی منڈیوں کے استحکام اور معاونت کے لیے انتہائی اہم رہا ہے۔
علاقائی کشیدگی کے دوران روس کا اہم سفارتی قدم
روس کی جانب سے سعودی عرب کو ثالثی کی پیشکش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
ماسکو اور ریاض کے درمیان سفارتی رابطہ اور توانائی کے شعبے میں تعاون خطے میں روس کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے، جبکہ سعودی عرب پہلے ہی علاقائی تنازعات کے حل اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔



