27 ستمبر کا احتجاج اٹل! بیرسٹر گوہرکاحکومت کودوٹوک پیغام،نیکٹا میں تعیناتی فوج کا اندرونی معاملہ قرار
عدلیہ انصاف نہ دے، پارلیمنٹ نہ سنے تو کہاں جائیں؟ بیرسٹر گوہر کا سوال

راولپنڈی (جانو ڈاٹ پی کے) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے دوٹوک اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کی کال واپس لینے یا اس پر نظرثانی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جبکہ انہوں نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
اڈیالہ روڈ کے داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نیکٹا میں اگر کوئی تعیناتی ہو رہی ہے تو یہ فوج کا اندرونی معاملہ ہے، پی ٹی آئی نے کبھی کسی ادارے کے سربراہ کی تعیناتی پر سوال نہیں اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں نہ ہونے پر شدید تشویش ہے اور ان کے خیال میں ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا تو حالات اس نہج تک نہ پہنچتے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے، ایسا ملکی تاریخ میں کسی سیاسی قیدی کے ساتھ نہیں کیا گیا۔
بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا کہ اگر ملاقاتیں ہوتیں تو پیغامات کا تبادلہ ہوتا اور حالات بہتری کی جانب بڑھ سکتے تھے، تاہم ان کے مطابق عدلیہ نے بھی پی ٹی آئی کو مایوس کیا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم سے پہلے کی عدلیہ انتخابات نہیں کروا سکی اور موجودہ عدلیہ بھی بانی پی ٹی آئی سے ایک ملاقات تک نہیں کروا سکی۔ ان کے مطابق ملاقاتوں سے متعلق عدالتی احکامات پر بھی عمل نہیں کیا گیا جبکہ سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کی درخواستیں زیر التوا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ "ہمیں دیوار کے ساتھ لگا کر پارٹی کو دیوار میں چن دیا گیا” اور 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل ہی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ شروع کردی گئی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے سوال اٹھایا کہ کیا عوام کو پُرامن احتجاج کے لیے سڑکوں پر آنے کا اختیار نہیں؟ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی نے پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے کہ احتجاج کے دوران کسی کے ہاتھ میں لاٹھی یا غلیل نہیں ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر عدلیہ انصاف نہیں دے گی اور پارلیمنٹ بھی بات نہیں سنے گی تو انصاف کے لیے سڑکوں کے علاوہ کہاں جائیں؟ تاہم انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ سیاسی تناؤ اور چپقلش سے عوام اکتا چکی ہے اور حالات بہتر بنانے کے لیے تمام فریقوں کو ایک ایک قدم پیچھے ہٹنا ہوگا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ 27 ستمبر کے احتجاج کی کال اٹل ہے اور اس پر نظرثانی نہیں کی جاسکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے اور ان سے ملاقات سے متعلق عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں، جن پر عمل ہونا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے سندھ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے استقبال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سندھ کے عوام نے وزیراعلیٰ کے پی کا شاندار استقبال کیا، تاہم سندھ حکومت کی جانب سے راستے بند کرنا مناسب اقدام نہیں تھا۔
ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری سہیل آفریدی کو سونپی ہے۔
بیرسٹر گوہر کے تازہ بیان نے ایک مرتبہ پھر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کو نمایاں کردیا ہے، جبکہ 27 ستمبر کے احتجاج کے حوالے سے ان کا دوٹوک مؤقف آنے والے دنوں میں سیاسی ماحول مزید گرم ہونے کا اشارہ دے رہا ہے۔



