عوام کو مایوس نہ کریں، سیاسی مفاہمت کا راستہ اختیار کیا جائے، راجا ناصر عباس

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجا ناصر عباس نے کہا ہے کہ گورنر راج کے بعد یہ ایسے بولتے کہ یہ فاتح ہیں، کیا عوام راضی ہیں، کیا عوام جشن منا رہے ہیں۔
سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے راجا ناصر عباس نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں عوام کے حق پر ڈاکا ڈالا گیا ہے، صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ میرے اپوزیشن کے لوگ آج سینیٹ میں بات کریں گے، کیا یہاں پر بھی بات کرنا جرم ہے، یہاں بھی پابندی لگائی جائے گی۔
اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ جو آئین کو پاوں تلے روندے کیا وہ اس امانت کے اہل ہیں، اس ملک میں لاقانونیت کا سامنا ہے، ملک میں بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ رانا ثنا آج بات کرنے دیں ہمیں، معلوم ہے کہ آپ نہیں چاہتے تھے یہ ہو، خیبر پختونخوا میں عوام کے حق پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔
علامہ راجا ناصر عباس نے یہ بھی کہا کہ 12 اکتوبر کو ایک آمر نے حکومت کو پرے پھینکا وہ سیاہ دن تھا، 11 اکتوبر بھی یوم سیاہ ہے، ایک جمہوری آدمی مٹھائیاں تقسیم نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کون باہر نکلا تھا، 12 اکتوبر کو کون باہر نکلا تھا، ہو کا عالم تھا، خدا کے لیے ایسا کام نہ کریں کہ عوام لاتعلق ہو جائیں۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ عوام کے حق پر ڈاکا ڈال کر مایوس کر رہے ہیں، بتایا جائے کہ کیا کے پی میں حالات اتنے خراب تھے کہ ایمرجنسی کے سوا آگے نہیں بڑھا جا سکتا تھا؟
علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ کے پی میں اصلی حکومت تھی دو تہائی کی ان کو آپ نے پھینک دیا، سسٹم گر چکا ہے، ایمرجنسی لگانا ہے تو پورے ملک پر لگاؤ۔
اُن کا کہنا تھا کہ سیاسی بات چیت پر اتفاق ہو چکا تھا، اختلاف تب ہوا جب سیکیورٹی کے مسائل کو سیاسی مسائل کے ساتھ نتھی کیا گیا۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کے پی سے زیادہ خراب ہیں، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنا چاہتے تاکہ ملکی مسائل کا حل نکالیں۔ ملاقات کرائیں تاکہ سیاسی مفاہمت کا راستہ نکالیں، ہم بانی پی ٹی آئی سے ملیں گے اور آمادہ کریں گے کہ ہم مل کر چلیں۔
علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ مذاق بنایا ہوا ہے ہم مل ہی نہیں سکتے، انا اور تکبر بہت خطرناک ہے، ہم نے تو یہ بھی مان لیا تھا کہ ہم آگے بڑھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ کے گورنر کی زبان دیکھو کہ وہ کہتا ہے بلوں سے باہر نکلو، آپ لانگ مارچ کو دہشت گردی کہتے ہو، بات ہو سکتی تھی۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بلاول بھٹو مارچ لے کر آئے تھے کسی نے نہیں کہا تھا دہشت گرد آئے تھے، آپ کے اقدام سے بے امنی اور دہشت گردی بڑھے گی۔
انہوں نے کہا کہ آمر مشرف اختلاف برداشت کرتا تھا لیکن جمہوری وزیر اعظم نہیں کر رہے، ہمارا زوال شروع ہے، 21 دن پارلیمنٹ کا اجلاس کیوں نہیں ہوا۔



