تھر کول منصوبے میں حفاظتی انتظامات کا فقدان، دو مزدور جھلس کر جاں بحق، سریندر ولاسائی کا وزیراعلیٰ سندھ کو خط، تحقیقات کا مطالبہ

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) سندھ اسمبلی کے رکن سریندر ولاسائی نے تھر کول بلاک ون کے پاور پلانٹ میں حادثے کے دوران جھلس کر زخمی ہونے کے بعد جاں بحق ہونے والے نوجوان مزدوروں جئے کمار اور صحبت خاصخیلی کے واقعے کا نوٹس لینے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو خط لکھ دیا ہے۔ خط میں سریندر ولاسائی نے کہا ہے کہ تھرپارکر سے تعلق رکھنے والا فٹر جئے کمار ولد اشوک، ایم کان (M.CON) کی نگرانی میں تھر کول منصوبے پر کام کرتے ہوئے شدید جھلس کر زخمی ہوا تھا، جس کے بعد اس کی موت صنعتی منصوبوں میں مزدوروں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ کہیں حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی یا غفلت تو نہیں برتی گئی۔ انہوں نے ایم کان سے واقعے کی وضاحت طلب کرنے، حفاظتی انتظامات کا ریکارڈ سامنے لانے اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی اور انتظامی کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ سریندر ولاسائی نے خط میں مزید مطالبہ کیا کہ جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کو فوری مالی امداد، مناسب معاوضہ اور قانون کے تحت ملنے والے تمام فوائد فراہم کیے جائیں، جبکہ زخمی ہونے والے دیگر مزدوروں کی بھی مالی مدد کی جائے۔انہوں نے تھر کول منصوبے میں حفاظتی انتظامات کا مکمل آڈٹ کرانے، مزدوروں کو ضروری حفاظتی سامان، مناسب تربیت، مؤثر نگرانی اور ہنگامی طبی سہولیات فراہم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیکیداری نظام کی آڑ میں مزدوروں کی حفاظت سے متعلق ذمہ داری سے پہلو تہی نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سندھ حکومت اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے گی، جاں بحق مزدوروں کے خاندانوں کو انصاف اور مناسب معاوضہ فراہم کرے گی اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے گی۔



