ڈیپلو کے گاؤں ویڑھار میں خاتون کے مبینہ قتل کا الزام،ورثاء کا احتجاج، قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کا مطالبہ

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)تھرپارکر کی تحصیل ڈیپلو کے قریب گاؤں ویڑھار میں تقریباً 10 روز قبل جاں بحق ہونے والی 30 سالہ شانتی زوجہ مٹھو میگھواڑ کی موت پر ورثاء نے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے مبینہ قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ ورثاء نے قبر کشائی کرکے لاش کا پوسٹ مارٹم کرانے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
متوفیہ کے بھائیوں ڈاڑھو میگھواڑ، لچھمن میگھواڑ اور چچا نٹھو مل میگھواڑ نے مٹھی میں تھرپارکر میڈیا سینٹر پہنچ کر احتجاج کیا۔ اس موقع پر انہوں نے الزام لگایا کہ شانتی کو مبینہ طور پر تشدد کرکے قتل کیا گیا اور بعد ازاں اس کی لاش درخت سے لٹکا دی گئی، جبکہ موت کو دل کا دورہ قرار دے کر بغیر پوسٹ مارٹم کے تدفین کر دی گئی۔
متوفیہ کے بھائی داڑھو مل میگھواڑ نے دعویٰ کیا کہ جنازے کے موقع پر کفن پر خون کے نشانات بھی موجود تھے، جس کے باعث اہل خانہ کے شکوک و شبہات میں اضافہ ہوا۔
ورثاء نے مزید الزام عائد کیا کہ مقدمہ درج کرانے کے لیے ڈیپلو تھانے جانے پر پولیس کی جانب سے ایف آئی آر سے دو افراد کے نام خارج کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں مقدمہ درج نہ کرنے کی بات کی گئی۔
احتجاج کرنے والے ورثاء نے مطالبہ کیا کہ قبر کشائی کرکے لاش کا پوسٹ مارٹم کرایا جائے، واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور مبینہ واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرکے انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔
واضح رہے کہ خاتون کے قتل اور پولیس پر دباؤ ڈالنے کے الزامات ورثاء کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں۔ واقعے کی اصل حقیقت اور ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔



