بدین:حملہ آور آزاد،مدعی مقدمات میں نامزد،پولیس پرجانبداری کے الزامات

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)بدین پولیس نے کمدار کے تمام  ریکارڈ توڑتے ہوئے ملزمان کو چھوڑ کر الٹا مدعی کے خلاف مقدمات درج کر دیے ہیں پولیس کے اس طرزِ عمل کے بعد بدین کے قدیمی مقامی لوگ خود کو مکمل طور پر غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں تفصیلات کے مطابق قومی عوامی تحریک کے رہنما ایڈووکیٹ سانول گوپانگ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چند روز قبل 13 جون کو لواری شریف میں پولیس پوسٹ کے سامنے میرے چچا پرویز گوپانگ اور ان کے اہلِ خانہ پر کچھ افراد نے سرِعام حملہ کیا۔ اس وقت پولیس موقع پر موجود تھی، مگر حملہ روکنے یا ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی انہوں نے کہا کہ حملے کے دوران میرے چچا شدید زخمی ہوئے ان کے سر پر گہرے زخم آئے جس کے باعث انہیں حیدرآباد منتقل کیا گیا اور آج تک وہ مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہو سکے ہیں شدید احتجاج کے بعد اگرچہ ایف آئی آر درج کی گئی لیکن نامزد ملزمان کھلے عام گھومتے رہے اور پولیس کے سامنے آتے رہے اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی انہوں نے مزید کہا کہ اس کے برعکس آج اسی مقدمے میں لواری شریف پولیس نے میرے کزن کو گرفتار کر لیا ہے اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ملزم فریق کے بیانات کی بنیاد پر میرے زخمی چچا کا نام بھی مقدمے میں شامل کر دیا گیا ہے اور  ایک کم عمر بچے کو بھی مقدمے میں ملزم نامزد کیا گیا ہے جبکہ ایسے افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے جو وقوعہ کے وقت موقع پر موجود ہی نہیں تھے ان میں سے ایک شخص کے کراچی میں موجود ہونے کے ثبوت اور ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہیں ایڈووکیٹ

سانول گوپانگ نے کہا کہ لواری شریف پولیس کا رویہ پہلے دن سے جانبدارانہ نظر آ رہا ہے اور بااثر سیاسی شخصیات سے ملزم فریق کی قربت کے باعث پولیس غیر جانبدار کردار ادا کرنے کے بجائے ایک فریق کی سہولت کار بنتی دکھائی دے رہی ہے جو قانون کی حکمرانی اور عوامی اعتماد کے لیے انتہائی خطرناک ہے انہوں نے بتایا کہ آج جب ہمارے گھر کی خواتین گرفتار نوجوان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور انصاف کی امید لے کر پولیس پوسٹ گئیں تو لواری شریف پولیس پوسٹ کے انچارج نے ان کے ساتھ انتہائی نامناسب توہین آمیز اور غیر اخلاقی رویہ اختیار کیا ان کے مطابق یہ عمل نہ صرف خواتین کی عزتِ نفس کی توہین ہے بلکہ پولیس کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے انہوں نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی بدین سے پرزور مطالبہ کیا کہ

اس مقدمے کی تحقیقات فوری طور پر کسی غیر جانبدار افسر کے سپرد کی جائیں موجودہ تفتیشی افسر اور لواری شریف پولیس پوسٹ کے انچارج کو فوری طور پر ہٹا کر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور متاثرہ فریق کے ساتھ امتیازی سلوک کی الگ سے تحقیقات کرائی جائیں متاثرہ فریق کو تحفظ فراہم کیا جائے ہے گناہ افراد کو سیاسی یا ذاتی اثر و رسوخ کی بنیاد پر ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے انہوں نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ قانون کی بالادستی، پولیس کی غیر جانبداری اور عام شہری کو انصاف کی فراہمی کا معاملہ ہے۔ اگر بااثر افراد کے دباؤ میں زخمیوں کو ملزم اور اصل ملزمان کو آزاد رکھنے کا سلسلہ جاری رہا تو عوام کا قانون پر اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا

مزید خبریں

Back to top button