تھرساون میلہ اور جشنِ آزادی،نوجوانوں کاسرسبز،خوشحال اورپائیدار تھرکیلئے آوازبلند

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی) تھر سٹیزن فورم کی جانب سے جشنِ آزادی، نوجوانوں کے عالمی دن اور ماحولیاتی آگاہی کے سلسلے میں تین روزہ ”تھر ساوڻ میلہ“ ماروی کرکٹ گراؤنڈ مٹھی میں شروع ہوگیا۔ میلے کے پہلے روز نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے تقاریر، پینل مباحثوں، تھیٹر اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعے تھر کی ترقی میں نوجوانوں کی شراکت، ماحولیاتی انصاف، قدرتی وسائل کے تحفظ، تعلیم، روزگار اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اپنی آواز بلند کی۔ میلے کا افتتاح ضلعی کونسل تھرپارکر کے چیئرمین ڈاکٹر غلام حیدر سمیجو نے کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور ان کے فوائد سے انکار نہیں کیا جاسکتا، تاہم نوجوانوں، بالخصوص نوجوان لڑکیوں کی جانب سے ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے ظاہر کیے گئے خدشات سنجیدہ توجہ کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئلے کی کان کنی اور بجلی کے منصوبوں کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ اور نقصانات کی روک تھام کے لیے ذمہ دارانہ اقدامات نہ کیے گئے تو ان کے منفی اثرات وقت کے ساتھ مزید نمایاں ہوں گے۔ ضلعی بار کونسل تھرپارکر کے نائب صدر ایڈووکیٹ سبحان سمیجو نے کہا کہ نوجوان اپنے مستقبل کے لیے تبدیلی کی ایک مضبوط قوت بن سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تھر میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کے باعث ماحول اور مقامی لوگوں کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے متعلقہ ادارے اور کمپنیاں بروقت اقدامات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جشنِ آزادی کی حقیقی روح اس وقت مکمل ہوگی جب تھرپارکر جیسے پسماندہ علاقوں کے عوام بھی اپنے حقوق، وسائل اور بہتر زندگی کے حقیقی ثمرات سے مستفید ہوسکیں گے۔ ارباب گروپ کے رہنما اور سماجی رہنما ارباب عمران نے کہا کہ تھر میں بچیوں کی تعلیم پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک عورت کی تعلیم سے پورا خاندان تعلیم یافتہ ہوجاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تھر کے قدرتی معدنی وسائل پر پہلا حق مقامی لوگوں کا ہے، جبکہ تھر کول سے حاصل ہونے والی اربوں روپے کی رائلٹی میں سے مناسب حصہ تھر کی تعلیم، صحت اور ترقی پر خرچ کرکے میگا اسکیمیں شروع کی جائیں۔ سندھ ہیومن رائٹس کمیٹی کے یوتھ کوآرڈینیٹر اسد آزاد ہنگورجو نے کہا کہ نوجوانوں کو سماجی اور ادارہ جاتی نظام میں مسائل کے حل اور فیصلہ سازی کے لیے مزید جگہ اور آزادی دی جانی چاہیے۔ انہوں نے تھرپارکر میں میگا ترقیاتی منصوبوں سے متعلق انسانی حقوق اور مقامی آبادی کے خدشات پر فوری اصلاحی اقدامات کرنے اور نوجوانوں کو نگرانی، آواز اٹھانے اور مسائل کے حل کے عمل میں حقیقی شراکت دار بنانے پر زور دیا۔ میلے کے دوران نوجوانوں نے تعلیم، روزگار، قیادت، موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی نقصانات، قدرتی وسائل اور میگا ترقیاتی منصوبوں میں مقامی لوگوں کی شراکت سمیت مختلف مسائل کو اجاگر کیا۔ نوجوانوں نے مطالبہ کیا کہ تھر کے کوئلے سے حاصل ہونے والی رائلٹی کا مناسب اور منصفانہ حصہ تھر کے نوجوانوں، تعلیم، اسکالرشپس، فنی مہارتوں، کھیلوں، روزگار، ماحولیاتی بحالی اور پائیدار ترقی پر خرچ کیا جائے۔ اس موقع پر تھر سٹیزن فورم کی جانب سے نوجوانوں کی جانب سے اٹھائی گئی آواز اور تجاویز کی بنیاد پر ”نوجوانوں کی قیادت میں سرسبز اور خوشحال تھر کے لیے چارٹر“ بھی پیش کیا گیا۔ چارٹر میں تھر کی ترقی، ماحول، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی وسائل سے متعلق فیصلہ سازی میں نوجوانوں، بالخصوص نوجوان خواتین اور پسماندہ طبقات کی مؤثر نمائندگی، معیاری تعلیم، اسکالرشپس، فنی و ڈیجیٹل مہارتوں، باعزت روزگار اور نوجوانوں کے لیے کاروباری مواقع کا مطالبہ کیا گیا۔ چارٹر میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، زیرِ زمین پانی کی دوبارہ بحالی، زمینوں اور چراگاہوں کی بحالی، مقامی درختوں اور جنگلی حیات کے تحفظ، صاف توانائی اور بہتر کچرا انتظام کے لیے مخصوص فنڈز اور فنی معاونت فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ خشک سالی، شدید گرمی، پانی کی قلت اور غیر معمولی بارشوں جیسے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے ساتھ نوجوانوں کی صحت، کھیلوں، تخلیقی سرگرمیوں اور محفوظ سماجی مقامات کے لیے سہولیات میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا۔ چارٹر میں کوئلے کی کان کنی، بجلی کی پیداوار اور دیگر بڑے منصوبوں کے باعث ہوا، پانی، زمین، جنگلی حیات، مقامی روزگار اور آبادیوں پر پڑنے والے اثرات کی آزادانہ اور شفاف نگرانی، متاثرہ آبادیوں اور نوجوانوں کی نگرانی میں شمولیت، کمپنیوں کی جوابدہی، ماحولیاتی نقصانات کی روک تھام و بحالی اور متاثرہ افراد کو مناسب معاوضہ دینے پر زور دیا گیا۔ اسی طرح کوئلے اور دیگر فوسل فیول پر انحصار کو مرحلہ وار کم کرکے صاف توانائی کی جانب منصفانہ منتقلی، نوجوانوں کے لیے گرین روزگار اور تھر کی زراعت، مال مویشی اور روایتی معیشت کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا۔ تھر سٹیزن فورم کے چیئرمین اوبھایو جوڻيجو نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فورم تھر کے نوجوانوں، خواتین، پسماندہ طبقات اور دیگر سماجی گروہوں کو منظم کرکے ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کا عمل جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ تھر میں ہونے والی میگا ترقی کے دوران مقامی لوگوں کے حقوق، ماحول، قدرتی وسائل اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔میلے کے پہلے روز ملاکھڑا بھی منعقد ہوا، جس میں سندھ کے لاڑ اور اتر سمیت تھرپارکر کے ملھ پہلوانوں داہو بھیل، جیرام بھیل، فرید شاہانی اور دیگر پہلوانوں نے ملاکھڑے کے جوہر دکھا کر شائقین سے بھرپور داد حاصل کی۔ تھر ساوڻ میلہ 12، 13 اور 14 اگست 2026ء تک ماروی کرکٹ گراؤنڈ مٹھی میں جاری رہے گا۔ جشنِ آزادی کے سلسلے میں آئندہ روز کرکٹ ٹورنامنٹ، ملاکھڑا اور نوجوانوں و ثقافت سے متعلق مختلف سرگرمیاں منعقد ہوں گی، جبکہ میلے کی تقریبات 14 اگست کی شام تک جاری رہیں گی۔ میلے کا مشترکہ پیغام یہ ہے کہ نوجوان صرف ترقی کے فوائد حاصل کرنے والے نہیں بلکہ تھر کے مستقبل کے شراکت دار اور تبدیلی کے رہنما ہیں؛ لہٰذا نوجوانوں کی ترقی اور قیادت کے ساتھ ماحولیاتی انصاف، قدرتی وسائل کا تحفظ اور ایک سرسبز، منصفانہ اور پائیدار تھر کو ترقی کے مرکز میں رکھا جانا چاہیے۔

مزید خبریں

Back to top button