کمرشل فلموں میں اداکاراؤں کو کام ٹیلنٹ پر نہیں تعلقات پر دیا جاتا ہے، تاپسی پنو

ممبئی(جانوڈاٹ پی کے)بالی ووڈ اداکارہ تاپسی پنو نے کہا ہے کہ مین اسٹریم اور کمرشل فلموں میں اداکاراؤں کو کردار ان کی صلاحیت کے بجائے مارکیٹ ویلیو، مقبولیت، روابط اور انڈسٹری میں اثر و رسوخ کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں۔
تاپسی پنو جو مشکل اور منفرد موضوعات پر بننے والی فلموں میں اداکاری کے لیے جانی جاتی ہیں، نے 2023 میں شاہ رخ خان کے ساتھ فلم ’ڈنکی‘ میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔
اگرچہ فلم کی باکس آفس کارکردگی شاہ رخ خان کی اس سے قبل ریلیز ہونے والی فلموں ’پٹھان‘ اور ’جوان‘ کے مقابلے میں نسبتاً کم رہی، تاہم ’ڈنکی‘ تاپسی پنو کے کیریئر کی سب سے بڑی کمرشل کامیابی ثابت ہوئی۔
حالیہ گفتگو میں تاپسی پنو نے بتایا کہ ’ڈنکی‘ میں شاہ رخ خان کے ساتھ کام کرنے کے باوجود انہیں اس کے بعد زیادہ مین اسٹریم فلموں میں کام کرنے کے مواقع نہیں ملے۔
تاپسی کے مطابق فلموں میں کردار حاصل کرنے کے لیے صرف ٹیلنٹ کافی نہیں ہوتا۔ تمام اداکار کسی نہ کسی حد تک ایک دوسرے کے متبادل ہو سکتے ہیں اور ایک ہی کردار کو مختلف فنکار اپنے انداز میں ادا کرسکتے ہیں۔
اداکارہ نے کہا کہ نام نہاد مین اسٹریم اور کمرشل فلموں میں خواتین کے کردار اکثر اتنے اہم نہیں ہوتے کہ انہیں کسی ایک مخصوص اداکارہ سے جوڑا جائے۔ ان کے بقول ایسے کردار ادا کرنے کے لیے کسی بھی اداکارہ کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔
تاپسی پنو نے کہا کہ ان کرداروں کے حصول کی بنیاد آپ کا ٹیلنٹ نہیں بلکہ آپ کی مارکیٹ، سیل ایبلٹی، روابط، مقبولیت، موجودگی اور اثر و رسوخ ہے۔ یہ تمام عوامل ایک اداکار کے ٹیلنٹ سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ ان عوامل کے معاملے میں وہ خود کو دیگر اداکاراؤں کے مقابلے میں پیچھے سمجھتی ہیں۔ ان کے پاس فلم حاصل کرنے کی واحد بنیاد ان کا ٹیلنٹ ہے۔
اداکارہ نے فلم ’ڈنکی‘ میں اپنی کاسٹنگ کا کریڈٹ ہدایت کار راج کمار ہیرانی کو دیتے ہوئے کہا کہ ہیرانی نے ان کا کام دیکھنے کے بعد انہیں فلم میں کاسٹ کیا اور ان کے انتخاب پر مضبوطی سے قائم رہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی مین اسٹریم فلمیں بہت کم ہیں جن میں اداکارہ کا انتخاب صرف اس کی صلاحیت کی بنیاد پر کیا جائے، جبکہ راج کمار ہیرانی جیسے ہدایت کار، جو کسی مخصوص اداکارہ کو کردار کے لیے منتخب کرنے پر پوری طرح پُراعتماد ہوں، ان سے بھی کم ہیں۔
تاپسی پنو کی حالیہ فلم ’گندھاری‘ ہے، جس کی کہانی ایک ماں کے گرد گھومتی ہے جو اپنی اغوا شدہ بیٹی کو تلاش کرکے اسے بچانے کے لیے ہر حد سے گزر جاتی ہے۔ فلم میں انتقام اور نجات جیسے موضوعات کو پیش کیا گیا ہے، تاہم ’گندھاری‘ کو ناقدین اور ناظرین کی جانب سے ملے جلے منفی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا۔



