ایران کی شرائط پر ڈیجیٹل معاہدے کی اندرونی کہانی! ڈاکٹر راشد نقوی کیساتھ خصوصی تجزیہ

​تہران(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)​پاکستان کے وزیراعظم کی جانب سے امریکہ اور ایران کے مابین ممکنہ معاہدے کی ڈیجیٹل سائننگ تقریب کے اعلان کے بعد خطے میں سفارتی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ اس اہم پیشرفت پر "ان سائٹ بائے معظم فخر” کے پلیٹ فارم پر تہران سے معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر راشد نقوی نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ابتدائی مرحلہ کسی حتمی معاہدے کے بجائے ایک "ایم او یو” (MoU) ہے، جو ایک روڈ میپ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر راشد کے مطابق، ایران اس پورے عمل میں انتہائی محتاط ہے اور اسے امریکی نیت پر اعتماد نہیں ہے۔ ایران نے اپنی ریڈ لائنز، خاص طور پر یورینیم افزودگی کی سطح اور "محورِ مزاحمت” پر کسی بھی قسم کے سمجھوتے کو مسترد کر دیا ہے۔

​ڈاکٹر راشد نقوی کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ایران کی کامیابی اور امریکہ کی ناکامی کا ثبوت ہے، کیونکہ ایران نے اپنی شرائط اور قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے سپر پاور کو اپنی مرضی پر چلنے پر مجبور کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور اسرائیل کے مابین تنازعہ ایک نظریاتی جنگ ہے جو معاہدے کے باوجود جاری رہ سکتی ہے، کیونکہ اسرائیل کا ہدف "گریٹر اسرائیل” کا قیام ہے جس کے راستے میں ایران سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس موقع پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایران خدانخواستہ کمزور ہوتا تو اس سے خطے میں اسرائیل اور بھارت کا گٹھ جوڑ مزید مضبوط ہوتا، جو براہِ راست پاکستان کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔ ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس ٹیکنالوجی اور صلاحیت موجود ہے، اور اگر ملک کی بقا کا مسئلہ درپیش ہوا تو ایران اپنے شرعی فتاویٰ کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی حفاظت کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا سکتا ہے۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button