الیکشن کمیشن میں بڑا آئینی بحران؟محموداچکزئی کاوزیراعظم کوخط،فوری تقرریوں کا مطالبہ کردیا

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) الیکشن کمیشن کے اہم آئینی عہدوں پر تقرریوں کے معاملے نے سیاسی حلقوں میں نئی ہلچل مچا دی۔ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے سندھ و بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ارکان کی فوری تقرری کا مطالبہ کردیا۔
محمود اچکزئی نے اپنے خط میں اہم آئینی عہدوں پر تقرری میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سمیت سندھ اور بلوچستان کے ارکان کی مدت 26 جنوری 2025 کو مکمل ہوچکی ہے۔
الیکشن کمیشن کی آزادی اور ساکھ پر سوال؟
اپوزیشن لیڈر نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کے اہم عہدوں پر تقرری میں مزید تاخیر تشویش کا باعث ہے، جبکہ ان عہدوں کو بروقت پُر کرنا الیکشن کمیشن کے تسلسل، آزادی اور ساکھ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
محمود اچکزئی نے وزیراعظم شہباز شریف پر زور دیا کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داری فوری طور پر پوری کریں اور چیف الیکشن کمشنر سمیت سندھ اور بلوچستان کے ارکان کی تعیناتی کے لیے بلا تاخیر کارروائی شروع کی جائے۔
خالی عہدوں پر فوری تقرری کیوں ضروری؟
خط میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی مؤثر فعالیت کے لیے اہم خالی عہدوں پر فوری تقرری ناگزیر ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے خبردار کیا کہ آئینی ادارے کے اہم عہدوں پر طویل تاخیر ادارے کے تسلسل اور عوامی اعتماد کے حوالے سے سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔
محمود اچکزئی کے وزیراعظم کو خط کے بعد اب حکومت کی جانب سے آئینی عہدوں پر تقرری کے معاملے میں آئندہ اقدام پر سیاسی حلقوں کی نظریں مرکوز ہوگئی ہیں۔
اہم سوال یہ ہے کہ حکومت کب تک الیکشن کمیشن کے اہم عہدوں پر نئی تقرریوں کا عمل مکمل کرتی ہے؟



