8 دن تک بحر الکاہل میں تنہا خراب کشتی کیساتھ بھٹکنے والا ماہی گیر معجزانہ طور پر زندہ بچ گیا

لندن(جانوڈاٹ پی کے)بحر الکاہل دنیا کا سب سے بڑا سمندر ہے اور اس میں کھو جانے کا مطلب اکثر موت ہوتا ہے۔
مگر جزائر کک نامی ملک سے تعلق رکھنے والے ایک خوش قسمت ماہی گیر اس صورتحال میں زندہ بچنے میں کامیاب رہے۔
جونیئر اپیوٹا اپیوٹا نامی ماہی گیر 8 دن تک تنہا خراب کشتی میں بحر الکاہل کی پانیوں میں بھٹکتے رہے۔
اس دوران انہوں نے شدید ٹھنڈ کا سامنا کیا اور انہیں معلوم نہیں تھا کہ اب وہ کبھی اپنے خاندان کو دیکھ بھی سکیں گے یا نہیں۔ وہ اس سفر پر اپنی چھوٹی سی کشتی پر روانہ ہوئے تھے جس میں سامان بہت کم تھا۔
ان کی مشکلات کا آغاز 11 جون کو ہوا جب وہ اپنے آبائی جزیرے Pukapuka میں ایک والی بال میچ کھیلنے کے بعد مچھلی کے شکار کے لیے سمندر میں نکلے۔
اس وقت ہوا بہت تیز تھی اور وہ سمندری پانیوں کے اوپر اڑتے پرندوں کا تعاقب کر رہے تھے کیونکہ اس سے عندیہ مل رہا تھا کہ مچھلیاں قریب موجود ہیں۔
اس دوران ان کی کشتی کا انجن خراب ہوگیا، اس وقت تک وہ کچھ مچھلیاں پکڑ چکے تھے مگر تاریکی چھا چکی تھی۔
جونیئر اپیوٹا کے پاس انجن کو ٹھیک کرنے کے لیے اوزار موجود نہیں تھے اور ہوا کی شدت مسلسل بڑھ رہی تھی۔
ان کے مطابق ‘اس وقت میں نے سوچا کہ پانی میں چھلانگ لگا کر اپنے جزیرے کی جانب تیر کر جاؤں، مگر مجھے اندازہ تھا کہ میں ایسا نہیں کرسکتا تو کشتی میں ہی رہا’۔
اسی دوران ان کی کشتی پانیوں میں ڈولتی ہوئی جزیرے سے دور ہوتی گئی اور پہلی رات انہیں سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کریں اور کیسے خود کو بچائیں۔
آنے والے دنوں میں صورتحال مزید بدتر ہوگئی کیونکہ پانی کی سطح میں اضافہ ہوا، شدید ٹھنڈ اور مسلسل بارش نے انہیں بری طرح متاثر کیا۔
اونچی لہریں مسلسل ان سے ٹکرا رہی تھیں تو بہنے سے بچنے کے لیے وہ کشتی کے فرش پر لیٹ گئے۔
انہوں نے بتایا کہ ‘لہریں بہت زیادہ بلند تھیں اور بپھرے سمندر میں تیرتے ہوئے مسلسل کشتی کا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا اور اندر بھرنے والے پانی کو باہر پھینکتا رہا’۔
ان کی کشتی میں پانی کی 2 بوتلیں، ایک بالٹی، فشنگ گیئر، ایک چادر اور ایک پورٹ ایبل کولر موجود تھا۔
زندہ رہنے کے لیے انہوں نے کچی مچھلی کھائی جبکہ بالٹی میں بارش کا پانی جمع کیا۔
ٹھنڈ سے بچنے کے لیے انہوں نے چادر اور کولر کو استعمال کیا اور ان کے بقول ‘رات کے وقت میں کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا کیونکہ ٹھنڈ کی وجہ سے مجھے لگتا تھا کہ جیسے میں مجنمد ہوگیا ہوں’۔
تمام تر مشکلات کے باوجود انہوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور تیسرے دن انہوں نے دور ایک روشنی کو دیکھا اور کشتی کو وہاں لے جانے کی کوشش کی، مگر ہوا نے ان کی کشتی کو مخالف سمت میں بھیج دیا۔
8 ویں دن انہوں نے ایک طیارے کی آواز سنی اور خود سے کہا کہ ‘شاید یہ میری مدد کرے گا’۔
وہ نیوزی لینڈ ائیرفورس کا طیارہ تھا جس نے ان کی کشتی کو دیکھ کر قریب موجود ماہی گیروں کی کشتیوں کو آگاہ کیا۔
تائیوان کا ایک جہاز وہاں پہنچا اور جونیئر اپیوٹا کی زندگی بچالی۔
انہیں جہاز پر لے جاکر نہلایا گیا، کھانا دیا گیا اور پھر خاندان سے رابطہ کرایا گیا۔
انہوں نے سب سے پہلے اپنی شریک حیات سے رابطہ کیا اور پہلی آواز جو ان کے منہ نکلی وہ یہ تھی کہ ‘جان میں ٹھیک ہوں’۔
انہیں نیوزی لینڈ لے جایا گیا اور بہت جلد وہ اپنے گھر واپس چلے جائیں گے۔
ان کے مطابق وہ ماہی گیری کو جاری رکھیں گے مگر اب زیادہ محتاط رہیں گے۔



