مستقبل کے معماریاجنسی جلاد:حکام کی اندھی بے حسی،مہذب دنیاکی لبرل درندگی کاتماشا

تحریر:نہال معظم
کسی بھی مہذب معاشرے میں استاد کو نسلِ نو کی نظریاتی اور اخلاقی حدود کا نگہبان، اور مستقبل کے معمار تیار کرنے والا معتبر ترین درجہ دیا جاتا ہے لیکن جب نام نہاد جدید اور ترقی یافتہ دنیا کے استاد ہی درندگی پر اتر آئیں، تو پورا سماجی ڈھانچہ ایک بدبودار لاش کی طرح سڑنے لگتا ہے۔ برطانوی شہر بلیک پول سے سامنے آنے والا لرزہ خیز سانحہ مغربی معاشرے کے منہ پر وہ طمانچہ ہے جس نے استاد کے نام کو ہمیشہ کے لیے مٹی میں ملا دیا ہے۔ 2023ء میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے میں ایک تیرہ ماہ کے معصوم بچے، پریسٹن، کی اسے گود لینے والے ہم جنس پرست جوڑے کے ہاتھوں المناک موت نے پورے برطانیہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ طویل عدالتی کارروائی کے بعد جون 2026ء میں عدالت نے اس کیس میں ملوث افراد کو مجرم قرار دیا، مگر فیصلہ آنے کے باوجود وہ بنیادی سوالات آج بھی جواب طلب ہیں جو بچوں کے تحفظ کے نظام پر سنگین سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔
عدالتی کارروائی اور تفتیشی شواہد کے مطابق، یہ معصوم بچہ گود لیے جانے کے بعد ایسے ماحول میں پہنچا جہاں اسے مسلسل جسمانی تشدد، خوف اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں متعدد سنگین زخموں، جسمانی چوٹوں اور تشدد کے آثار کا ذکر سامنے آیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ کوئی اچانک پیش آنے والا سانحہ نہیں تھا بلکہ ایک طویل المیے کا المناک انجام تھا۔
اس واقعے کا سب سے پریشان کن پہلو صرف مجرموں کا کردار نہیں بلکہ ان اداروں کی ناکامی بھی ہے جن کی بنیادی ذمہ داری بچوں کا تحفظ ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس پورے لرزہ خیز واقعے کے بڑے زمہ دار اس لبرل نظام، سوشل ورکرز اور متعلقہ حکام بھی ہیں جنہوں نے اندھی جدت پسندی کی دوڑ میں اخلاقی، جسمانی اور ذہنی خباثت کے گڑھ بنے اس ہم جنس پرست جوڑے کو معصوم بچہ گود لے کر پالنے کی اجازت دی۔ جب ان بدقماشوں نے قدرت اور فطرت کا راستہ چھوڑ ہی دیا ہے، جب یہ فطری جنسی نظام اور انسانی بقا کے اصولوں کے باغی بن چکے ہیں، تو ان میں اتنی ہمت ہونی چاہیے کہ یہ خود بچہ پیدا کر کے دکھائیں! جو لوگ فطرت کے اصولوں کو ٹھکرا کر غیر فطری غلاظت کے کیچڑ میں لت پت ہیں، انہیں کس قانون اور کس اخلاق کے تحت ایک معصوم اور بے گناہ بچہ گود لینے دیا گیا؟ کیا یہ لبرل سماج اتنا اندھا اور بے غیرت ہو چکا ہے کہ وہ حقوق کے نام پر معصوم بچوں کو ایسے نفسیاتی مریضوں کی جنسی و جسمانی ہوس کا ایندھن بنا رہا ہے؟ ایسے اخلاق باختہ افراد کو معصوم جانیں سونپنا سراسر مجرمانہ نالائقی ہے، جس پر متعلقہ حکام اور اڈاپشن پینل کا گریبان پکڑنا انتہائی ضروری ہے۔
اس ہم جنس پرست جوڑے نے اس تیرہ ماہ کے کمسن بچے پر مہینوں تک وہ ظلم ڈھائے جو درندے بھی اپنے بچوں پر نہیں کرتے۔ اس پورے عرصے میں سب سے بڑا اور بھیانک سوالیہ نشان ان برطانوی ڈاکٹروں اور متعلقہ حکام پر لگتا ہے جو جدید نظام کے دعویدار بنے پھرتے ہیں۔ موت سے قبل یہ بچہ تین بار مشکوک حالت میں ہسپتال لایا گیا، لیکن افسوس کہ وہاں موجود ڈگری ہولڈر اندھے ڈاکٹروں کو اس معصوم کے جسم پر بدترین تشدد اور جنسی استحصال کے نشانات دکھائی نہیں دیے، نہ ہی ان کا ضمیر جاگا اور نہ ہی انہیں یہ جلاد جوڑا مشکوک لگا۔ ان سنگدل قاتلوں نے جھوٹے بہانے بنا کر اتنی آسانی سے پورے طبی نظام کو چکر دے دیا اور متعلقہ حکام گہری نیند سوتے رہے، جو کہ اس معصوم کے قتل میں برابر کے شریک اور ذمہ دار ہیں۔ چائلڈ سیف گارڈنگ ایجنسیوں اور سماجی بہبود کے وہ محکمے جو بچوں کے تحفظ کے دعوے کرتے ہیں، اس تماشے پر مکمل طور پر بے ہوش رہے، جس کی قیمت اس معصوم بچے کو اپنی جان دے کر چکانی پڑی۔مرکزی مجرم جیمی وارلی کے موبائل فون سے بچے کی انتہائی قابلِ اعتراض، نازیبا ویڈیوز اور تصاویر ملیں جو ثابت کرتی ہیں کہ وہ معصوم کو اپنے گھناؤنے فعل کا نشانہ بناتا رہا۔
عدالتی سزا اس ہولناک جرم اور غلاظت کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ ادھورا انصاف اس وحشت کا مداوا نہیں کر سکتا جس سے وہ معصوم بچہ گزرا۔ ایسے غیر فطری، اخلاق باختہ اور گرے ہوئے کرداروں کی تو سرِعام کھالیں ادھیڑ دینی چاہئیں، انہیں چوکوں پر لٹکانا چاہیے تاکہ کسی اور کو بچوں کے استحصال کی جرات نہ ہو۔
یہ واقعہ اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ بچوں کے تحفظ کے دعوے صرف پالیسی دستاویزات، بیانات اور سرکاری رپورٹس سے پورے نہیں ہوتے۔ جب نگرانی کمزور ہو، جوابدہی غیر مؤثر ہو اور ادارے اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے غافل ہو جائیں تو سب سے زیادہ قیمت وہ معصوم جانیں چکاتی ہیں جو خود اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتیں۔
اصل ضرورت صرف مجرموں کو سزا دینے کی نہیں بلکہ ایسے سانحات کو جنم دینے والی ادارہ جاتی کمزوریوں کا خاتمہ کرنے کی ہے۔یہ سانحہ دنیا بھر کے چائلڈ پروٹیکشن اداروں، سماجی بہبود کے محکموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ بچوں کے تحفظ میں معمولی سی غفلت بھی ناقابلِ تلافی نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ جب تک نگرانی، احتساب اور فوری مداخلت کے مؤثر نظام قائم نہیں کیے جاتے، اس وقت تک معصوم بچوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق رہیں گے۔



