ماتلی میں نان کسٹم پیڈ سگریٹ کا دھندا پھر زیرِ بحث، انتظامیہ کی کارروائی سے ہلچل

تحریر:ایم آر گدی

 ضلع بدین کے سب سے بڑے تجارتی اور کاروباری مرکز ماتلی میں نان کسٹم پیڈ اور غیر قانونی سگریٹ کی فروخت ایک مرتبہ پھر زیر بحث آ گئی ہے جہاں حالیہ دنوں اسسٹنٹ کمشنر ماتلی ڈاکٹر راشد چنا اور مختیارکار معصب جونیجو نے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ ایک سگریٹ ایجنسی پر کارروائی کرتے ہوئے بڑی مقدار میں نان کسٹم پیڈ سگریٹ برآمد کیے جس کے بعد شہر اور گردونواح میں اس معاملے پر بحث اور تشویش میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، مقامی مارکیٹ ذرائع کے مطابق ماتلی کو ضلع بدین کا اہم تجارتی حب سمجھا جاتا ہے جہاں عرصہ دراز سے نان کسٹم پیڈ سگریٹ کی فروخت کے حوالے سے مختلف رپورٹس اور نشاندہی سامنے آتی رہی ہے اور حالیہ کارروائی نے ایک بار پھر اس پورے نیٹ ورک اور اس کی سپلائی چین کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے، مارکیٹ ذرائع کے مطابق نان کسٹم پیڈ سگریٹ کا ایک کارٹن 50 ڈنڈوں پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر ڈنڈے میں 10 پیکٹ شامل ہوتے ہیں جس کے مطابق ایک کارٹن میں مجموعی طور پر تقریباً 500 پیکٹ یا 10 ہزار سگریٹ موجود ہوتے ہیں اور یہی کارٹن مختلف سطحوں پر 35 ہزار سے 55 ہزار روپے تک فروخت کیا جاتا ہے جبکہ قانونی طور پر ٹیکس اور ڈیوٹی ادا کرنے والے برانڈز کی اسی مقدار کی مالیت نمایاں طور پر زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث مارکیٹ میں قیمت کے فرق کو اس کاروبار کی بقا کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے، کاروباری حلقوں کے مطابق قانونی سگریٹ برانڈز عموماً 240 سے 250 روپے یا اس سے زائد فی پیکٹ فروخت ہوتے ہیں جبکہ بعض مقامی یا نان کسٹم پیڈ برانڈز 90 سے 130 روپے فی پیکٹ تک دستیاب ہوتے ہیں جس سے کم آمدنی والے صارفین نسبتاً سستے متبادل کی طرف مائل ہوتے ہیں اور اسی فرق کے باعث دستاویزی معیشت اور ریونیو کے نظام پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے، تمباکو صنعت سے وابستہ حلقوں کا مؤقف ہے کہ رجسٹرڈ کمپنیاں بھاری ٹیکسز اور ڈیوٹیز ادا کرتی ہیں لیکن غیر قانونی مصنوعات کی موجودگی سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ قانونی کاروبار کو بھی مسابقتی دباؤ کا سامنا رہتا ہے، اس معاملے کا ایک اہم پہلو صحت عامہ سے بھی جڑا ہوا ہے جہاں ماہرین صحت کے مطابق تمباکو نوشی انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے اور پھیپھڑوں، دل اور دیگر مہلک بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے جبکہ بعض طبی اور عوامی حلقوں کی جانب سے یہ بھی نشاندہی کی جاتی ہے کہ غیر دستاویزی سگریٹ مصنوعات میں نکوٹین کی مقدار اور معیار کے حوالے سے شفاف نگرانی کا فقدان ممکنہ طور پر انحصار اور صحت کے خطرات کو بڑھا سکتا ہے، اسی طرح مارکیٹ میں یہ رجحان بھی دیکھا جاتا ہے کہ بعض مقامی سطح پر دستیاب برانڈز اپنی فروخت بڑھانے کے لیے مختلف ترغیبی اسکیمیں متعارف کراتے ہیں جن میں ایک پیکٹ کے ساتھ دوسرا پیکٹ فری، لائٹر، نقد انعامات، پیٹرول واؤچرز یا دیگر انعامی آفرز شامل بتائی جاتی ہیں جس سے صارفین کو اضافی کشش فراہم کی جاتی ہے، مجموعی طور پر شہری اور تجارتی حلقوں کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف ریونیو کے نظام بلکہ مارکیٹ کے توازن اور صحت عامہ کے پہلوؤں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے اور اس پورے معاملے میں سپلائی چین کے مختلف مراحل مینوفیکچرنگ سے لے کر ترسیل، ذخیرہ اندوزی اور ریٹیل سطح تک مزید تفصیلی توجہ اور نگرانی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے جبکہ اسسٹنٹ کمشنر اور مختیارکار کی حالیہ کارروائیوں کو مقامی سطح پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جس نے ایک بار پھر اس مسئلے کو نمایاں کردیا ھے ۔

مزید خبریں

Back to top button