ننھا ڈاکو،انوکھی چوری؛انسانی جین کی ایک لاکھ سال پرانی ہوشرُبا ’’ڈکیتی‘‘ پکڑی گئی!

نہال معظم

ہم سمجھتے ہیں کہ انسان نے ٹیکنالوجی کے ذریعے ہیکنگ کی دنیا ایجاد کی، مگر قدرت کے ننھے ہیکرز ہم سے کہیں پہلے یہ کام کر رہے تھے۔ سائنس دانوں نے ایک ایسے وائرس کا سراغ لگایا ہے جس کے بارے میں شواہد بتاتے ہیں کہ اس نے تقریباً ایک لاکھ سال پہلے ہمارے آباؤ اجداد سے ایک جین کا حصہ ’’چرا‘‘ لیا تھا، اسے اپنے جینیاتی نظام میں محفوظ رکھا اور ممکنہ طور پر آج بھی اسی جینیاتی چوری سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ یہ کوئی فلمی کہانی نہیں بلکہ سائنس کی دنیا کا ایک حیران کن انکشاف ہے، جہاں چور بھی ایسا ہے جسے ننگی آنکھ سے دیکھا تک نہیں جا سکتا!

معروف سائنسی جریدے Science میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، اس حیران کن کہانی کا مرکزی کردار مولسکم کنٹیجیوسم وائرس ہے، جو پوکس وائرسز کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور انسانوں کی جلد پر چھوٹے، گول، چمکدار یا موم جیسے دانے پیدا کرتا ہے۔ ان دانوں کے درمیان عموماً ایک چھوٹا سا گڑھا بھی ہوتا ہے۔ یہ وائرس زیادہ تر قریبی جسمانی رابطے یا متاثرہ جلد اور بعض اشیا کے ذریعے پھیلتا ہے اور خاص طور پر بچوں میں عام پایا جاتا ہے۔

اصل حیرت اس وائرس کی ظاہری علامات نہیں بلکہ اس کے اندر چھپی ایک جینیاتی ’’چوری‘‘ ہے۔ کورنیل یونیورسٹی کے حیاتیات کے ماہر سدرک فیشوٹ اور ان کی ٹیم نے مختلف وائرسز کے جینیاتی ڈیٹا کا جائزہ لیا تو مولسکم وائرس کے اندر موجود ایک جینیاتی سلسلہ انسانی جین BC200 سے غیر معمولی مشابہت رکھتا ملا۔ انسانوں میں BC200 خلیاتی سرگرمی، خصوصاً پروٹین سازی کے عمل کو منظم کرنے سے متعلق ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق، ممکن ہے کہ تقریباً ایک لاکھ سال پہلے کسی قدیم انفیکشن کے دوران انسانی جینیاتی مادے کا یہ حصہ اتفاقاً وائرس کے ڈی این اے میں شامل ہوگیا ہو۔ جینیاتی مواد میں وقت کے ساتھ پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا موازنہ کرکے محققین نے اندازہ لگایا کہ وائرس میں موجود یہ جینیاتی سلسلہ تقریباً ایک لاکھ سال سے اس کے ارتقائی سفر کا حصہ ہے۔

یہاں کہانی مزید دلچسپ ہوجاتی ہے، کیونکہ وائرس نے انسان سے حاصل کیے گئے اس جینیاتی حصے کو محض محفوظ نہیں رکھا بلکہ اسے اپنے فائدے کے لیے ڈھال بھی لیا۔ جب کوئی وائرس انسانی خلیے میں داخل ہوتا ہے تو ہمارا مدافعتی نظام اس کی افزائش روکنے کے لیے خلیے کی کئی سرگرمیوں، خصوصاً پروٹین سازی کے نظام، کو متاثر کرتا ہے۔ وائرس کے لیے یہ ایک بڑی رکاوٹ ہوتی ہے، کیونکہ اسے اپنی نئی نقول بنانے کے لیے اسی خلیے کی حیاتیاتی مشینری استعمال کرنا پڑتی ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ مولسکم وائرس میں موجود انسانی BC200 جیسے جینیاتی حصے کا تعلق میزبان خلیے کے پروٹین سازی کے عمل سے فائدہ اٹھانے کی اس کی صلاحیت سے ہے۔ یوں جس جینیاتی مادے کو وائرس نے اپنے قدیم انسانی میزبان سے حاصل کیا تھا، وہ وقت کے ساتھ اس کی بقا اور افزائش کی حکمتِ عملی کا حصہ بن گیا۔

حیرت انگیز طور پر محققین نے جن مولسکم وائرسز کے نمونوں کا جائزہ لیا، ان میں یہ جینیاتی سلسلہ مسلسل موجود تھا۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ یہ وائرس کے لیے محض ایک اتفاقی جینیاتی ٹکڑا نہیں رہا بلکہ ارتقا کے دوران اس کے لیے مفید بن چکا ہے۔

اس دریافت کی اہمیت صرف ایک وائرس تک محدود نہیں۔ سائنس دان اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا دوسرے وائرسز نے بھی انسانوں یا جانوروں سے جینیاتی حصے حاصل کرکے انہیں اپنی بقا کے لیے استعمال کیا ہے۔ اگر ایسے مزید جینیاتی ’’ہتھیار‘‘ سامنے آتے ہیں تو ان کی مدد سے وائرسز کے خلاف نئے علاج اور ادویات کی راہیں بھی کھل سکتی ہیں۔

جہاں تک مولسکم وائرس سے بننے والے دانوں کا تعلق ہے، وہ عموماً خطرناک نہیں ہوتے اور کئی کیسز میں 6 سے 12 ماہ کے اندر خود ہی ختم ہوجاتے ہیں۔ تاہم انہیں نوچنے یا دبانے سے وائرس جسم کے دوسرے حصوں یا دوسرے افراد تک پھیل سکتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر ماہرِ جلد مختلف طبی طریقے، مثلاً منجمد کرنے کا علاج، تجویز کرسکتے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button