میکسیکو بارڈر پر ڈرونز کا خطرہ بڑھ گیا، امریکی فوج نے اینٹی ڈرون ہتھیار میدان میں اتار دیے

واشنگٹن (جانو ڈاٹ پی کے) امریکی فوج نے میکسیکو سے ملحقہ جنوبی سرحد پر ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر جدید اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کی آزمائش شروع کردی۔
رائٹرز کے مطابق امریکی فوج نے ستمبر میں ایریزونا میں ہونے والی فالکن پیک مشق کے دوران ایسے جدید نظاموں کا تجربہ کیا جن میں ریڈار، ڈرون شکن انٹرسیپٹرز، خودکار گن سسٹمز اور دیگر ٹیکنالوجیز شامل تھیں، جن کا مقصد چھوٹے بغیر پائلٹ طیاروں کی نشاندہی، نگرانی اور انہیں ناکارہ بنانا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق گزشتہ 30 روز کے دوران جنوبی سرحد پر 378 ڈرون دراندازیوں کا سراغ لگایا گیا، جن میں زیادہ تر تجارتی طور پر دستیاب ڈرونز تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ گروہ ان ڈرونز کو منشیات کی اسمگلنگ اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
امریکی فوج پہلے ہی سرحد پر لیزر ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اگست کے بعد سے 11 کارٹیل سے منسلک ڈرونز مار گرانے کا اعلان کرچکی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقے میں ڈرونز کا استعمال یوکرین کی جنگ میں سامنے آنے والی تیز رفتار ڈرون ٹیکنالوجی کے مقابلے میں کم پیچیدہ ہے، تاہم یہ علاقہ امریکی فوج کو حقیقی ماحول میں نئے دفاعی نظام آزمانے اور فوجیوں کی تربیت کا موقع فراہم کررہا ہے۔
مشق کے دوران دفاعی کمپنیوں نے مختلف ٹیکنالوجیز پیش کیں، جن میں Anduril کا Ghost ڈرون، Teledyne FLIR کا نگرانی نظام، Allen Control Systems کا خودکار Bullfrog گن سسٹم اور Powerus کا انٹرسیپٹر ڈرون شامل تھے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ مقصد یوکرین میں دیکھی گئی تیز رفتار تکنیکی جدت اور تجربات کے عمل سے سبق حاصل کرنا ہے۔



