امریکاکا’تجارتی سپر ویپن‘کادعویٰ،چین کاLOGINKاچانک غائب!

وینژو/ٹوکیو (جانو ڈاٹ پی کے) امریکا کی جانب سے چین کے ایک ریاستی حمایت یافتہ لاجسٹکس ڈیٹا پلیٹ فارم LOGINK کو عالمی تجارت میں ممکنہ ’تجارتی سپر ویپن‘ قرار دے کر خبردار کیے جانے کے چند سال بعد یہ منصوبہ بین الاقوامی سطح پر شدید مشکلات کا شکار ہوگیا۔

رائٹرز کے مطابق LOGINK کا مقصد کسٹمز حکام، بندرگاہوں اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے لاجسٹکس ڈیٹا کو ایک ڈیجیٹل نظام میں یکجا کرکے عالمی کارگو کی نقل و حرکت کو آسان بنانا تھا، تاہم امریکی حکام اور سکیورٹی ماہرین کو خدشہ تھا کہ اس کے ذریعے چین عالمی تجارت سے متعلق حساس معلومات، مال کی مقدار، قیمتوں اور نقل و حرکت تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق LOGINK کی کئی اہم بین الاقوامی شراکت داریاں رک چکی ہیں، جبکہ یہ 2024 میں ایک بین الاقوامی میری ٹائم ڈیٹا شیئرنگ ایسوسی ایشن سے بھی الگ ہوگیا۔ اسی عرصے میں اس کی ویب سائٹ بھی بند ہوگئی۔

رائٹرز کی ٹیم نے ستمبر میں چین کے شہر وینژو میں LOGINK کے آپریشنز مرکز کا دورہ کیا تو دفاتر تقریباً ویران نظر آئے، لائٹس بند تھیں، استقبالیہ خالی تھا اور کمپیوٹر کیبلنگ بھی ہٹا دی گئی تھی۔

امریکی حکام نے LOGINK کے عالمی پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اتحادی ممالک اور اداروں کو بھی اس پلیٹ فارم کے استعمال سے محتاط رہنے پر زور دیا تھا۔ امریکی کانگریس نے LOGINK سے منسلک اداروں کے ساتھ پینٹاگون کے معاہدوں پر بھی پابندیاں عائد کیں۔

دوسری جانب جاپان اور جنوبی کوریا کے حکام نے بتایا کہ ان کے ساتھ LOGINK کے ذریعے شیئر ہونے والا ڈیٹا محدود نوعیت کا تھا اور اس میں جہازوں کی آمد و روانگی اور کارگو کی لوڈنگ و ان لوڈنگ سے متعلق معلومات شامل تھیں، نہ کہ مال کے اندرونی مواد کی تفصیلات۔

رائٹرز کے مطابق یہ واضح نہیں ہوسکا کہ چین کی جانب سے اہم منصوبہ قرار دیے جانے والا LOGINK اچانک عالمی سطح پر کیوں پیچھے ہٹا، تاہم اس کی بین الاقوامی سرگرمیوں میں کمی کا وقت امریکا کی جانب سے اتحادیوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔

چین کی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے LOGINK سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا، تاہم جون 2026 میں جاری ایک پالیسی دستاویز میں نظام کو مزید ملکی ڈیٹا ذرائع سے منسلک کرنے پر زور دیا گیا تھا۔

 

مزید خبریں

Back to top button