انتخابات میں کروڑوں کاکھیل؟محموداچکزئی کے تہلکہ خیزانکشافات،رات ڈھائی بجے کیا ہوا؟

علامہ راجا ناصر عباس، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور دیگر ارکان پارلیمنٹ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ 1990 میں پہلی مرتبہ پارلیمنٹ کے رکن بنے اور پارلیمان کو عوام کا حقیقی نمائندہ بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کرتے رہے۔ ان کے مطابق بے نظیر بھٹو اور نواز شریف سمیت سیاسی رہنماؤں نے جمہوریت کے لیے جدوجہد کی۔
محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ آئین کی شق 58 ٹو بی، جس کے تحت ماضی میں پانچ اسمبلیاں تحلیل کی گئیں، سیاسی رہنماؤں کی کوششوں کے نتیجے میں ختم ہوئی۔ بعد ازاں لندن میں 35 سیاسی جماعتوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کیے، تاہم ان کے بقول آج اسی معاہدے پر دستخط کرنے والی دو جماعتوں نے ایک معاملے پر ووٹ دیا۔
انہوں نے 2024 کے عام انتخابات پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ انتخابات کا طریقہ کار سب کے سامنے ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ خیبرپختونخوا واحد اسمبلی تھی جو آئینی طریقے سے وجود میں آئی، لیکن اب اسے قبول نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے بتایا تھا کہ کئی معاملات طے پا چکے تھے۔
قائد حزب اختلاف نے بتایا کہ انتخابات کا انچارج رات ڈھائی بجے اپنی ٹیم کے ہمراہ ان کے گھر آیا اور قالین سمیت کوئی تحفہ بھی لایا، جبکہ انہوں نے جواباً قلم کا تحفہ دیا۔
محمود اچکزئی کے مطابق وہ پشین اور چمن سے قومی اسمبلی جبکہ چار صوبائی حلقوں سے بھی انتخابات لڑ رہے تھے۔ ان کا الزام تھا کہ جمعیت علمائے اسلام کے ایک امیدوار سے کروڑوں روپے لیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پشین کی ایک نشست پر مولانا فضل الرحمان کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہوئے اور اس امیدوار کو ان کے بقول 30 ہزار ووٹ ملے، جبکہ ان کی اپنی چار نشستیں چھین لی گئیں۔
محمود خان اچکزئی نے محسن نقوی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسی نے انہیں بتایا ہوگا کہ وہ 47 ووٹوں سے جیتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی نہ فوج سے کوئی مخالفت یا لڑائی ہے اور نہ کسی دوسرے ادارے سے، بلکہ ان کا مؤقف ہے کہ پارلیمان کو مضبوط ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ امیدواروں سے رقم لینے اور انتخابی نتائج میں مداخلت سے متعلق یہ الزامات محمود خان اچکزئی نے پریس کانفرنس میں عائد کیے؛ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق یا متعلقہ فریقین کا مؤقف اس فراہم کردہ متن میں شامل نہیں۔



