امریکامیں ہندومندرپربڑے حملے کی مبینہ منصوبہ بندی،19سالہ نوجوان گرفتار

عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق الیگزینڈروس پاپوراکس شکاگو کے نواحی علاقے پالٹائن کا رہائشی ہے اور ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ میں ملازمت کرتا تھا۔ پولیس نے 11 اکتوبر کو اس وقت تحقیقات شروع کیں جب ایک شخص نے ملزم کی جانب سے موصول ہونے والے مشتبہ پیغامات اور مبینہ حملے کے منصوبے سے متعلق اطلاع دی۔
پولیس کے مطابق ملزم نے ایک تحریری دستاویز بھی شیئر کی تھی، جس میں سفید فام نسل کی برتری کے انتہا پسندانہ نظریات اور جنوبی ایشیائی باشندوں، بالخصوص بھارتی نژاد افراد کے خلاف تشدد کا ذکر تھا۔
تفتیش کے دوران ملزم کے گھر سے رائفل، گولیاں، بھرے ہوئے میگزین، حفاظتی جیکٹ اور انتہا پسندانہ علامتوں والی اشیا برآمد ہوئیں۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ ملزم 11 اکتوبر کو ارورا کے علاقے میں واقع کسی ہندو عبادت گاہ کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا تھا۔
ہندو امریکن فاؤنڈیشن کے مطابق ملزم مندر پہنچ چکا تھا اور اس نے فائرنگ کی کوشش بھی کی، تاہم اس کی رائفل جام ہوگئی۔ حکام نے تاحال ممکنہ ہدف کی حتمی شناخت کی تصدیق نہیں کی۔
ملزم پر دہشت گردی کی دھمکی دینے اور غیر قانونی طور پر مختصر بیرل والی رائفل رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ عدالت نے اسے حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے، جبکہ آئندہ سماعت 30 اکتوبر کو مقرر کی گئی ہے۔ پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ واقعے کی مزید تحقیقات کررہے ہیں۔
واقعے کے بعد ارورا میں واقع سری وینکٹیشورا سوامی مندر کی انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق فی الحال عوام کو لاحق کسی مسلسل خطرے کی نشاندہی نہیں ہوئی۔



