دہلی کی تاریخی ریس کورس مسجد کو6دن میں خالی کرنے کا نوٹس،مسلم حلقوں میں تشویش

نئی دہلی (جانو ڈاٹ پی کے)بھارت میں نئی دہلی کی تاریخی ریس کورس مسجد کو مبینہ تجاوزات قرار دے کر چھ دن میں خالی کرنے کا نوٹس جاری کیے جانے پر مسلم حلقوں اور مذہبی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق مسجد کے امام کا مؤقف ہے کہ 2021 کے سرکاری سروے میں مسجد کو قانونی طور پر تسلیم کیا گیا تھا، اس لیے اسے تجاوزات قرار دینے کے اقدام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

مسجد کے امام کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران متعدد درخواستیں دینے کے باوجود دہلی وقف بورڈ نے مسجد کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ ان کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر 2026 کو انتظامیہ نے مسجد کے بجلی اور پانی کے کنکشن بھی منقطع کر دیے تھے۔

جمعیت علمائے ہند نے حکومتی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ریس کورس مسجد قانونی طور پر محفوظ تاریخی ورثہ ہے۔ تنظیم نے احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مسجد خالی کرنے کا نوٹس فوری طور پر معطل کیا جائے، مساجد کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور بنیادی سہولیات بحال کی جائیں۔

دوسری جانب میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے بھی تاریخی مسجد کے تحفظ کے لیے وقف حکام کی جانب سے مؤثر اقدامات نہ کیے جانے پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر قانونی طور پر تسلیم شدہ مسجد بھی محفوظ نہیں تو بھارت میں دیگر مسلم عبادت گاہوں کے تحفظ کی کیا ضمانت ہے؟

رپورٹ میں سیاسی ماہرین کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کے تحت اوقاف کی خودمختاری متاثر ہوئی ہے اور مساجد و دیگر مذہبی املاک کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گزشتہ تین برس کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت میں 860 سے زائد مساجد، مدارس اور مزارات مسمار کیے گئے، تاہم اس تعداد اور ان واقعات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

رپورٹ کے مطابق سہارنپور، مہراولی، وارانسی اور اجین کی تاریخی مساجد بھی انہدام یا تنازعات سے متعلق دعوؤں میں شامل ہیں۔ سیاسی ماہرین نے بی جے پی کے زیرِ اقتدار نو ریاستوں میں وقف املاک کو درپیش خطرات پر بھی تشویش ظاہر کی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

مزید خبریں

Back to top button