اگلی دو دہائیوں میں لاکھوں انسان خلا میں آباد ہوں گے،جیف بیزوس کی مستقبل سے متعلق بڑی پیش گوئی

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے)ایمازون اور خلائی کمپنی بلیو اوریجن کے بانی جیف بیزوس نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ دو دہائیوں میں خلائی ٹیکنالوجی اتنی ترقی کرجائے گی کہ لاکھوں افراد زمین سے باہر خلا میں رہائش اختیار کرسکیں گے۔ ان کے مطابق مستقبل میں چاند یا دیگر خلائی مقامات پر مشکل اور خطرناک کام انسانوں کے بجائے روبوٹس سے کرانا زیادہ مؤثر اور کم خرچ ثابت ہوگا۔

جیف بیزوس نے یہ خیالات اٹلی میں منعقدہ ٹیک ویک 2025 کے دوران ایک گفتگو میں پیش کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہونے کی متعدد وجوہات موجود ہیں، کیونکہ ٹیکنالوجی میں مسلسل پیش رفت انسانی زندگی کے لیے نئے امکانات پیدا کررہی ہے۔

بیزوس کے مطابق اگلی دو دہائیوں میں لاکھوں افراد خلا میں رہائش پذیر ہوں گے، تاہم ان میں سے بیشتر وہاں کسی مجبوری کے تحت نہیں بلکہ اپنی دلچسپی اور خواہش کی وجہ سے آباد ہوں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر چاند کی سطح یا کسی دوسرے خلائی مقام پر کوئی کام انجام دینا ہو تو اس کے لیے انسانوں کو بھیجنے کے بجائے روبوٹس کا استعمال کیا جاسکتا ہے، جو اخراجات اور عملی مشکلات کے لحاظ سے زیادہ موزوں ثابت ہوسکتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے باعث ملازمتوں میں ممکنہ کمی اور انسانی تہذیب کے مستقبل سے متعلق خدشات پر بات کرتے ہوئے بیزوس نے کہا کہ ایجادات مجموعی طور پر معاشرے کی خوش حالی میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق ہزاروں سال پہلے ہل جیسی ایجادات نے انسانی زندگی میں بہتری پیدا کی تھی، جبکہ جدید ٹیکنالوجی بھی اسی عمل کو آگے بڑھائے گی۔

خلا میں رہائش اور روزگار کے امکانات کے حوالے سے اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین بھی پُرامید ہیں۔ ان کے مطابق آئندہ دس برس میں یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے والے نوجوانوں کو خلا میں نئی اور پُرکشش معاوضوں والی ملازمتیں مل سکتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ نوجوانوں کے لیے مستقبل میں دستیاب پیشہ ورانہ مواقع گزشتہ نسل کے ابتدائی کیریئر کے مقابلے میں زیادہ دلچسپ ہوں گے۔

دوسری جانب ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک بھی انسانوں کو دوسرے سیاروں تک پہنچانے کے منصوبوں کے حامی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ 2028 تک انسان مریخ پر پہنچ سکتے ہیں، جبکہ اسپیس ایکس کی جانب سے بغیر انسانوں کے راکٹوں کی آزمائشی پروازیں اس سے پہلے شروع کرنے کے منصوبے بھی زیرِ بحث رہے ہیں۔

اسی تناظر میں وائجر ٹیکنالوجیز کے بانی اور چیف ایگزیکٹو ڈیلن ٹیلر نے اگست 2026 میں فارچون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ خلا میں انسانوں کی رہائش اور کام کرنا محض ایک دور کا خواب نہیں رہا۔ ان کے مطابق اس پیش رفت کا عملی آغاز ممکنہ طور پر 2030 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں ہوسکتا ہے۔تاہم خلا میں لاکھوں افراد کی آبادکاری اور مریخ پر انسانی مشن سے متعلق یہ پیش گوئیاں مستقبل کے منصوبوں اور امکانات پر مبنی ہیں، جن کا انحصار خلائی ٹیکنالوجی، لاگت، حفاظت اور دیگر تکنیکی چیلنجز پر ہوگا۔

مزید خبریں

Back to top button