لاہور،9سالہ گھریلو ملازمہ پر مبینہ وحشیانہ تشدد،بازو ٹوٹ گیا،گرم سریا لگانے کا بھی الزام

بچی کے والدین کے مطابق پولیس ملازمین وارث اور زنیرہ نے چوری کا الزام لگا کر ایمان فاطمہ کو مبینہ طور پر ڈنڈوں اور سوٹوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ والدین نے الزام عائد کیا کہ تشدد کے دوران بچی کو گرم سریا بھی لگایا گیا۔
متاثرہ بچی ایمان فاطمہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ملزمان اسے مسلسل مارتے رہے اور وہ منت سماجت کرتی رہی، تاہم انہوں نے رحم نہ کیا۔ بچی کے مطابق ہمسایوں نے مداخلت کرکے اسے ملزمان سے چھڑوایا اور پولیس کو اطلاع دی۔ اس کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار اسے اسپتال چھوڑ کر چلے گئے۔
بچی کی والدہ نے مزید الزام لگایا کہ ملزمان نے دھمکیاں دے کر اس کے والد سے اسٹامپ پیپر پر زبردستی انگوٹھے لگوائے۔
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا ہے، تاہم ان کے مطابق بازو ٹوٹنے سے متعلق دفعات شامل نہیں کی گئیں۔ والدین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ملزمان کی جانب سے انہیں مسلسل دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
متاثرہ بچی کے والدین نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔ الزامات کی آزادانہ تصدیق اور پولیس کا مؤقف سامنے آنا ابھی ضروری ہے۔



