خیبر پختونخوا میں سیاسی طوفان، سہیل آفریدی کے خلاف بغاوت اور اسمبلی کی تحلیل کا امکان

پشاور: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)
خیبر پختونخوا کا سیاسی منظرنامہ ایک ایسے بھنور میں پھنس چکا ہے جہاں حکومت خود اپنی ہی جماعت کی مخالفت کی زد میں ہے۔ سہیل آفریدی، جو اس وقت صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں، اپنی ہی پارٹی کے اندر شدید عدم اعتماد کا سامنا کر رہے ہیں۔ صورتحال اتنی سنگین ہو چکی ہے کہ تحریک انصاف کے 92 میں سے 65 ارکان اسمبلی ان کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں، جس کے بعد ان کی وزارتِ اعلیٰ شدید خطرے میں ہے۔ سہیل آفریدی کے لیے اب آپشنز محدود ہوتے جا رہے ہیں، اور خبریں گردش کر رہی ہیں کہ وہ حکومت بچانے کے بجائے خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
تاہم، یہ راستہ بھی اتنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ اسمبلی تحلیل کرنے کے فیصلے کو عدالتوں میں چیلنج کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد صوبے میں آئینی اور انتظامی بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔ بجٹ کی منظوری سہیل آفریدی کے لیے سب سے بڑا امتحان بن چکی ہے اور اکثریت کھونے کے بعد بجٹ کا پاس ہونا ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔ اس سیاسی جوڑ توڑ میں مراد سعید، عمر ایوب اور مشتاق غنی جیسے رہنما متحرک ہو چکے ہیں اور اگلی وزارتِ اعلیٰ کے لیے اپنی اپنی لابنگ شروع کر چکے ہیں۔
دوسری جانب، وفاقی حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش ایک مثبت پیش رفت ہے، جس پر محمود خان اچکزئی نے مثبت ردعمل دیا ہے۔ تاہم، خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی اندرونی جنگ نے صوبے کو عدم استحکام کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔
وی لاگ مکمل دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔




