ایران کا قطر سے ثالثی کی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ، غیر محتاط بیانات پر بھی تنقید

تہران(ویب ڈیسک) ایران نے قطر پر زور دیا ہے کہ وہ ثالثی کی ذمہ داریوں کے تقاضے پورے کرے اور علاقائی معاملات پر عوامی بیانات دیتے ہوئے زیادہ احتیاط سے کام لے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے بتایا کہ وزارتِ خارجہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ محمود مالکی نے یہ ردعمل قطری وزارتِ خارجہ کے شعبۂ مواصلات کے ڈائریکٹر ابراہیم الہاشمی کے حالیہ بیان پر دیا ہے۔

قطری عہدیدار نے کہا تھا کہ قطر اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے دیگر رکن ممالک متعدد مرتبہ علاقائی سلامتی کا مشترکہ فریم ورک قائم کرنے کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق اب ایران کو چاہیے کہ وہ مجوزہ اصولوں پر عمل کرکے اپنی نیک نیتی ثابت کرے۔

ابراہیم الہاشمی نے مزید کہا تھا کہ ایران کو مثبت بیانات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا چاہیے، ہمسایہ ممالک کو دھمکیاں دینے سے گریز کرنا چاہیے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی یقینی بنانی چاہیے۔

ایرانی عہدیدار محمود مالکی نے قطری بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تہران قطر سمیت تمام ممالک سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں اور طرزِ عمل میں باہمی خیرسگالی کا مظاہرہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض اقدامات علاقائی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں، خصوصاً ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے غیر ملکی قوتوں کو اپنی سرزمین یا تنصیبات استعمال کرنے کی اجازت دینا ایسے اقدامات میں شامل ہے، جن سے گریز کیا جانا چاہیے۔

ایرانی مؤقف کے مطابق علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد اور خیرسگالی کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ ریاستیں ایک دوسرے کے تحفظات کو مدنظر رکھیں اور ایسے اقدامات سے اجتناب کریں جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

ایران اور قطر کے درمیان سامنے آنے والے ان بیانات سے خطے میں سلامتی، آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت اور علاقائی سفارت کاری کے حوالے سے دونوں جانب کے مؤقف میں اختلافات نمایاں ہوئے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button