پی ٹی آئی کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ہنگامہ، لانگ مارچ کی حکمتِ عملی پر قیادت سے سخت سوالات، ارکان کا واک آؤٹ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں لانگ مارچ اور احتجاجی حکمتِ عملی پر ارکان نے قیادت سے سخت سوالات کیے، جبکہ اجلاس کے دوران اختلافات بھی کھل کر سامنے آگئے۔ ذرائع کے مطابق فیصل امین خان اور خواجہ شیراز اجلاس سے واک آؤٹ کرگئے۔
اجلاس میں ارکان نے شکوہ کیا کہ پلان اے، بی، سی اور ڈی کے اعلانات تو کیے گئے، لیکن عملی منصوبہ بندی دکھائی نہیں دی۔ ارکان نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا میں حکومت ختم ہونے کے بعد پارٹی کی جانب سے مؤثر ردعمل کیوں سامنے نہیں آیا اور اہم فیصلوں میں پارلیمانی ارکان کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق سیاسی رابطوں اور حکومت سے مذاکرات کے حوالے سے محمود خان اچکزئی کے کردار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ ارکان نے احتجاجی حکمتِ عملی اور پارٹی کی سیاسی سمت کے بارے میں وضاحت طلب کی۔
اجلاس کے دوران علی امین گنڈاپور کے بھائی فیصل امین خان کمیٹی روم کا دروازہ زور سے بند کرتے ہوئے باہر نکل گئے، جبکہ ان کے بعد رکن اسمبلی خواجہ شیراز بھی اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔ ذرائع کے مطابق دیگر ارکان انہیں آوازیں دیتے رہے، تاہم وہ واپس نہیں آئے۔
پی ٹی آئی رہنما عاطف خان نے اجلاس میں تلخی اور گرما گرمی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ارکان نے اپنے گلے شکوے کیے اور اس بات پر بحث ہوئی کہ غلطیاں کہاں ہوئیں اور معاملات آگے کیوں نہیں بڑھ سکے۔
دوسری جانب مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان تک رسائی اور ان کے علاج کی سہولیات یقینی بنانے کے لیے چھ رکنی اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کمیٹی کی سربراہی کریں گے۔
سینیٹر مشال یوسفزئی نے کہا کہ پارٹی کی اولین ترجیح بانی پی ٹی آئی تک رسائی اور ان کے علاج کا بندوبست کرنا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی پارلیمانی کردار ادا کرتی رہے گی۔ ان کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف اس کا مؤقف مشترکہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی واپس لی جائے۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اجلاس میں مشترکہ قرارداد بھی پیش کی۔ اجلاس میں سامنے آنے والے اختلافات کے باوجود پارٹی قیادت کی جانب سے پارلیمانی کردار جاری رکھنے اور بانی پی ٹی آئی تک رسائی کے مطالبے پر زور دیا گیا۔



