شیخ حسینہ کا عوامی لیگ پر پابندی کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانے کا مطالبہ، نئے انتخابات کی اپیل

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلہ دیش میں سابق حکمراں جماعت عوامی لیگ پر پابندی اور اسے انتخابی عمل سے باہر رکھنے کا معاملہ اقوام متحدہ تک پہنچ گیا ہے۔ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پابندی کا نوٹس لیں اور ملک میں آزادانہ، منصفانہ اور تمام سیاسی جماعتوں کی شمولیت پر مبنی انتخابات کے لیے آواز اٹھائیں۔

برطانوی قانونی ادارے میٹرکس چیمبرز کی ویب سائٹ پر شائع تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ شیخ حسینہ نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کو ایک تحریری مراسلہ ارسال کیا ہے، جس میں عوامی لیگ پر پابندی برقرار رکھنے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

مراسلے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عوامی لیگ پر پابندی ابتدائی طور پر بنگلہ دیش کی عبوری انتظامیہ نے عائد کی تھی، جسے وزیراعظم طارق رحمان کی قیادت میں قائم نئی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی حکومت نے برقرار رکھا اور باضابطہ شکل دی۔

شیخ حسینہ کے مطابق اس پابندی کے باعث ملک کی بڑی تعداد سیاسی نمائندگی سے محروم ہو رہی ہے اور جمہوری عمل متاثر ہو رہا ہے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ فروری 2026 میں ہونے والے انتخابات میں عوامی لیگ کو حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ شیخ حسینہ کا مؤقف ہے کہ ایک بڑی سیاسی جماعت کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کے باعث انتخابات کی آزادانہ، منصفانہ اور جامع حیثیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

مراسلے کے مطابق بنگلہ دیش میں جمہوری نظام کو مستحکم کرنے اور انتخابی عمل آگے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم عوامی لیگ اور اس سے وابستہ تنظیموں کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کی قانونی اجازت نہ ہونے کے باعث جماعت کے حامی اپنی پسند کی سیاسی جماعت کے ذریعے نمائندگی حاصل نہیں کر پا رہے۔

شیخ حسینہ نے اپنے مراسلے میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ عوامی لیگ کے لیے ملکی عدالتوں میں پابندی کو چیلنج کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق جماعت پر پابندی اور اس کے حامیوں کو مبینہ طور پر درپیش حملوں کے باعث وکلا کی خدمات حاصل کرنے اور قانونی چارہ جوئی آگے بڑھانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

شیخ حسینہ نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورت حال کا جائزہ لیں اور بنگلہ دیش میں سیاسی شمولیت، بنیادی حقوق اور آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

مزید خبریں

Back to top button