ایران کا امریکی جنگی حکمت عملی ناکام بنانے کا دعویٰ، پاسداران انقلاب کا بیان

تہران (جانو ڈاٹ پی کے)ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کو اسٹریٹجک ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا اور وہ ایرانی سیاسی نظام تبدیل کرنے یا ملک کو تقسیم کرنے کے اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکا۔
اپنے بیان میں حسین محبی نے کہا کہ مخالف فریق نے اپنے جنگی اہداف کو 13 حصوں میں تقسیم کیا، لیکن ان کے بقول کوئی بھی مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی امن کی ضمانت ثابت نہیں ہوئی، بلکہ امریکی فوجی اڈے سیکیورٹی فراہم کرنے کے بجائے عدم تحفظ کا باعث بنے۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ جنگ نے امریکی انٹیلی جنس کی برتری سے متعلق دعوؤں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی انٹیلی جنس مراکز اور فوجی اڈوں کی کمزوریاں سامنے آئیں، جبکہ امریکی جنگی طیاروں کو نشانہ بنائے جانے اور فضائی دفاعی نظام کو پہنچنے والے نقصان سے امریکی فوجی برتری متاثر ہوئی۔
حسین محبی کا کہنا تھا کہ جنگ کے باعث امریکا کی عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ میناب اسکول کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے نے اس کی ساکھ مزید متاثر کی۔ تاہم یہ بیانات ایرانی حکام کے دعوؤں پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔



