اوکاڑہ:بین الاضلاعی ہنی ٹریپ گینگ کے سنسنی خیزانکشافات

اوکاڑہ(رپورٹ وحیدآرائیں/جانوڈاٹ پی کے)اوکاڑہ کے تاریخی قصبہ صدر گوگیرہ سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ بین الاضلاعی ہنی ٹریپ گروہ کے حوالے سے سنگین دعوے اور الزامات سامنے آئے ہیں، جنہوں نے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ گروہ مبینہ طور پر طویل عرصے سے مختلف اضلاع میں سرگرم رہا اور لوگوں کو دوستی، تعلقات اور اعتماد کے نام پر مبینہ طور پر بلیک میل کرنے جیسے الزامات کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس گروہ کے خلاف مختلف اوقات میں لاہور، اوکاڑہ، شیخوپورہ، قصور اور تاندلیانوالہ سمیت متعدد علاقوں میں مقدمات اور شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ بعض مقدمات میں مبینہ طور پر زیادتی سے متعلق دفعات کے تحت کارروائی بھی ریکارڈ کا حصہ بتائی جاتی ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق متعلقہ اداروں سے ہونا ضروری ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر کچھ افراد کو پہلے دوستی یا تعلقات کے ذریعے اعتماد میں لیا جاتا، بعد ازاں مبینہ طور پر خفیہ ویڈیوز یا دیگر ذرائع استعمال کرکے مالی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ بعض متاثرین کے مطابق ایسے معاملات میں بھاری رقوم کے لین دین اور قانونی مقدمات کے خوف کو بطور دباؤ استعمال کیا گیا۔

چند حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اس مبینہ گروہ کی سرگرمیوں میں کئی افراد شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ مختلف اضلاع میں قیام کے دوران مبینہ بلیک میلنگ کے متعدد واقعات زیر بحث رہے۔ تاہم ان تمام دعوؤں کی شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔

عوامی اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ان الزامات میں صداقت پائی جاتی ہے تو اس معاملے کی غیرجانبدارانہ، شفاف اور جامع تحقیقات کروائی جائیں، تاکہ بے گناہ افراد کو انصاف اور اگر کوئی جرم ثابت ہو تو ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا مل سکے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ معاشرے میں بلیک میلنگ، دھوکہ دہی اور کردار کشی جیسے رجحانات نہ صرف خاندانوں کو متاثر کرتے ہیں بلکہ سماجی اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایسے معاملات میں ضروری ہے کہ عوام بھی سوشل میڈیا دوستیوں، غیر ضروری روابط اور ذاتی معلومات کے تبادلے میں احتیاط برتیں۔

مزید خبریں

Back to top button