غزہ میں طبی بحران سنگین، علاج نہ ملنے سے 1,500 سے زائد مریض جان کی بازی ہار گئے

غزہ(جانوڈاٹ پی کے)غزہ کی وزارت صحت نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کی جاری جنگ کے دوران طبی سہولیات اور ادویات کی شدید قلت کے باعث اب تک 1,500 سے زائد ایسے مریض انتقال کر چکے ہیں جنہیں علاج کے لیے بیرونِ ملک منتقل کیا جانا ضروری تھا۔
غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البرش نے کہا کہ غزہ کے اسپتال انتہائی مشکل اور کٹھن حالات میں کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق طبی سامان، ادویات اور ضروری آلات کی شدید کمی کے باعث مریضوں کی جانیں بچانا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
منیر البرش نے بتایا کہ غزہ سے علاج کے لیے بیرونِ ملک منتقلی کے منتظر ہزاروں مریض بروقت طبی سہولت نہ ملنے کے باعث متاثر ہوئے، جن میں سے 1,500 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ان کے مطابق خاص طور پر گردوں کے مریض سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، کیونکہ ضروری ادویات، ڈائلیسز کے آلات اور طبی سامان کی قلت کے باعث گردوں کے 50 فیصد سے زیادہ مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
وزارت صحت کا کہنا ہے کہ غزہ میں طبی بحران مسلسل سنگین ہوتا جا رہا ہے جبکہ اسپتالوں کو درکار بنیادی طبی سامان اور ادویات کی فراہمی تاحال بحال نہیں ہو سکی۔ حکام کے مطابق صحت کے شعبے کو فوری امداد نہ ملی تو مزید قیمتی جانوں کے ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
غزہ کی وزارت صحت نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی امدادی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ طبی سامان، ادویات اور مریضوں کی بیرونِ ملک منتقلی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔



