بدین میں سرکاری بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر سندھ ہائی کورٹ کا نوٹس، حکام طلب

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/ پی کے)ضلع بدین میں گریڈ 1 سے گریڈ 4 تک کی سرکاری بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ، سرکٹ بینچ حیدرآباد میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی۔ عدالت نے درخواست پر ڈپٹی کمشنر بدین، سیکریٹری صحت سندھ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) بدین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 13 جولائی کو طلب کر لیا ہے آ ئینی درخواست غلام مرتضیٰ اور دیگر درخواست گزاروں کی جانب سے دائر کی گئی، جبکہ ان کی پیروی سپریم کورٹ کے وکیل محمد اشرف سموں ایڈووکیٹ کر رہے ہیں ادھر پاکستان پیپلز پارٹی ضلع بدین کے صدر اور چیئرمین ضلع کونسل جام علی اصغر ہالیپوٹو نے بھی گریڈ 1 سے 4 تک کی بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر بدین سے بھرتیوں کا مکمل ریکارڈ، خالی آسامیوں کی ڈی آر سی (DRC) اور امیدواروں کی فہرست طلب کر لی ہے۔ اپنے خط میں انہوں نے ہدایت کی ہے کہ بھرتیوں کا عمل مکمل شفاف بنایا جائے، میرٹ پر ہر صورت عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور مبینہ جعلی تقرریوں، غیر قانونی آرڈرز اور دیگر بے ضابطگیوں کی حقیقت جلد عوام کے سامنے لائی جائے نام علی اصغر ہالیپوٹو کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کسی بھی صورت میرٹ کی پامالی اور ناانصافی برداشت نہیں کرے گی، جبکہ اہل امیدواروں کے حقوق کا تحفظ اور شفاف نظام کا قیام پارٹی کی اولین ترجیح ہے ذرائع کے مطابق آئینی درخواست اور پارٹی قیادت کے نوٹس کے بعد ڈپٹی کمشنر آفس میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گریڈ 17 کے ایک افسر اور چند ملازمین پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر بے روزگار نوجوانوں سے لاکھوں روپے رشوت وصول کرکے اصل امیدواروں کی جگہ دیگر افراد کے نام شامل کیے، بعض افسران کے جعلی دستخطوں سے تقرری آرڈرز جاری کیے گئے اور متعلقہ ڈی آر سی فہرستوں میں بھی ردوبدل کیا گیا ذرائع کے مطابق جب بعض امیدوار تقرری آرڈرز لے کر متعلقہ سرکاری محکموں میں جوائننگ کے لیے پہنچے تو انہیں یہ کہہ کر واپس کر دیا گیا کہ محکموں کو موصول ہونے والی سرکاری فہرستوں میں ان کے نام موجود نہیں ہیں ان انکشافات کے بعد گریڈ 1 سے 4 تک کی متعدد تقرریوں پر سوالات اٹھ گئے ہیں جبکہ معاملے کی مزید چھان بین جاری ہے

مزید خبریں

Back to top button