ماتلی میں عید کے 3روز اورقیامت خیزگرمی
بڑھتی مہنگائی کے باعث انفرادی قربانیوں کے رجحان میں کمی

ماتلی (ایم آر گدی/جانو ڈاٹ کام پی کے) عیدالاضحیٰ کے تین روزہ موقع پر ماتلی میں مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ نماز عید، سنتِ ابراہیمی کی ادائیگی اور دیگر مذہبی سرگرمیاں جاری رہیں، تاہم شدید گرمی، مہنگائی، کمزور کاروباری سرگرمیوں، بجلی و گیس کے مسائل اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں نے عید کی مجموعی سرگرمیوں کو نمایاں طور پر متاثر کیا، جبکہ شہریوں، تاجروں اور مختلف کاروباری حلقوں کے مطابق اس بار عید کے دوران بازاروں میں ماضی جیسی گہما گہمی، خریداری کا رجحان اور تجارتی سرگرمیاں محدود رہیں، شہر کے بڑے اجتماعات عیدگاہ گراؤنڈ نزد ریلوے اسٹیشن اور مدرسہ عبداللہ بن مسعود میں منعقد ہوئے جہاں ہزاروں فرزندان اسلام نے نماز عید ادا کی جبکہ دیگر مساجد اور عیدگاہوں میں بھی نماز عید کے اجتماعات منعقد ہوئے، شدید گرمی اور غیر معمولی موسمی صورتحال کے باعث شہریوں خصوصاً بچوں کی نقل و حرکت، عید ملنے جلنے اور تفریحی سرگرمیوں میں کمی دیکھی گئی جبکہ بازاروں، شاہراہوں اور عوامی مقامات پر معمول کے مقابلے میں رش بھی کم رہا، عیدالاضحیٰ کی چاند رات کے موقع پر ماتلی اور گردونواح کی مارکیٹوں، سبزی منڈیوں اور کاروباری مراکز کے سروے کے دوران دکانداروں، سبزی فروشوں اور کاروباری شخصیات نے غیر معمولی کاروباری سست روی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ اس بار چاند رات ماضی کے مقابلے میں کمزور کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ گزری اور بازاروں میں روایتی عید جیسی گہما گہمی دیکھنے میں نہیں آئی، تاجروں کے مطابق ضلع بدین کی زرعی معیشت اس وقت دباؤ کا شکار ہے کیونکہ علاقے میں اس وقت کوئی بڑی فصل مارکیٹ میں نہیں آ رہی جبکہ مختلف زرعی اجناس کے مناسب نرخ نہ ملنے سے زرعی طبقے کی قوت خرید بھی متاثر ہوئی جس کے اثرات مقامی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں پر واضح طور پر دیکھنے میں آئے، دوسری جانب عید کے موقع پر سبزیوں اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جہاں چاند رات اور عید کے پہلے روز سے ٹماٹر تقریباً 200 روپے فی کلو، ہری مرچ 150 سے 200 روپے فی کلو، ادرک تقریباً 600 روپے فی کلو جبکہ لیموں 800 سے 1000 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، شہریوں کے مطابق گوشت کے ساتھ استعمال ہونے والی اشیاء کی طلب بڑھنے کے باعث متعدد سبزیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا جس سے عید کے اخراجات مزید بڑھ گئے، مقامی ذرائع اور شہری حلقوں کے مطابق بڑھتی مہنگائی کے باعث انفرادی قربانیوں کے رجحان میں کمی جبکہ اجتماعی قربانیوں کی جانب رجحان میں اضافہ دیکھا گیا جہاں جامعہ مدرسہ قاسمیہ اور مدرسہ عبداللہ بن مسعود اجتماعی قربانی کے نمایاں مراکز کے طور پر سامنے آئے اور تینوں دن قربانیوں کا سلسلہ جاری رہا، دوسری جانب عید کے دوران مختلف علاقوں میں گیس کی لو پریشر، بندش اور بار بار گیس آنے جانے کی شکایات سامنے آتی رہیں جبکہ حیسکو کی جانب سے بہتر بجلی فراہمی کے اعلانات کے باوجود عید کے پہلے، دوسرے اور تیسرے روز بھی بجلی کی آنکھ مچولی جاری رہی اور تیسرے روز نماز جمعہ سے قبل اور بعد بھی مختلف علاقوں میں بجلی بندش کی اطلاعات موصول ہوئیں، ادھر شدید گرمی نے بھی شہریوں کو نڈھال کیے رکھا جہاں درجہ حرارت 48 سے 49 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ محسوس شدہ درجہ حرارت تقریباً 52 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب ریکارڈ کیا گیا جس کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد نے غیر ضروری نقل و حرکت محدود رکھی، شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ عید جیسے بڑے مذہبی موقع پر بنیادی سہولیات، بجلی و گیس کی بلا تعطل فراہمی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ عوام مذہبی تہوار کی خوشیوں سے بہتر انداز میں لطف اندوز ہو سکیں۔



