زمین کے علاوہ زندگی کی تلاش میں بڑی پیشرفت،زحل کے چاند انسلیدس پر زندگی کے امکانات مضبوط

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے)سائنسدانوں نے زحل کے چھٹے بڑے چاند انسلیدس (Enceladus) کو نظامِ شمسی میں زمین کے علاوہ زندگی کی تلاش کے لیے اہم ترین مقامات میں شامل قرار دیا ہے۔ نئی تحقیق میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ زمین پر پائے جانے والے بعض انتہائی سخت حالات برداشت کرنے والے جرثومے انسلیدس کے ممکنہ سمندری ماحول میں زندہ رہ سکتے ہیں۔

انسلیدس کی برفانی سطح کے نیچے نمکین پانی کا ایک وسیع سمندر موجود ہونے کے شواہد مل چکے ہیں، جبکہ اس چاند سے پانی کے بخارات اور برف کے ذرات کے اخراج کا بھی مشاہدہ کیا گیا ہے۔ یہی خصوصیات اسے ماہرین کے لیے غیر زمینی زندگی کی تلاش کا اہم ہدف بناتی ہیں۔

نئی تحقیق میں جرمنی کی Ludwig-Maximilian University کے سائنسدانوں نے جاپان کے سمندری ماحول میں پائے جانے والے ایسے جرثوموں کا تجربہ کیا جو سمندر کی گہرائی میں موجود ہائیڈرو تھرمل ماحول میں زندگی برقرار رکھتے ہیں۔

محققین نے لیبارٹری میں انسلیدس کے سمندر سے مشابہ حالات پیدا کرکے جرثوموں کی بقا کا جائزہ لیا۔ تجربے میں جرثومے ہائیڈروجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو استعمال کرکے میتھین بنانے اور مشکل ماحول میں نشوونما پانے میں کامیاب رہے۔

سائنسدانوں کے مطابق اس تجربے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انسلیدس پر زندگی موجود ہے، تاہم یہ امکان ضرور مضبوط ہوتا ہے کہ وہاں زمین کے بعض جرثوموں سے ملتی جلتی زندگی انتہائی مشکل حالات میں بقا اختیار کرسکتی ہے۔

انسلیدس سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز اس وقت بنا جب ناسا کے کیسینی مشن نے اس چاند سے پانی کے بخارات اور برفانی ذرات کے اخراج کا مشاہدہ کیا۔ بعد ازاں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے مشاہدات نے بھی اس چاند سے خارج ہونے والے پانی کے بخارات کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔

ماہرین کے مطابق انسلیدس کے زیرِ سطح سمندر میں ہائیڈرو تھرمل سرگرمی کے امکانات بھی موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں پانی، توانائی اور مختلف کیمیائی مرکبات زندگی کے لیے درکار بنیادی حالات فراہم کرسکتے ہیں۔

2025 میں کیسینی مشن سے حاصل کیے گئے مواد کے تجزیے میں بھی انسلیدس سے متعلق نامیاتی مرکبات کی موجودگی کے شواہد سامنے آئے تھے۔ تاہم نامیاتی مرکبات یا زندگی کے لیے سازگار حالات کی موجودگی کو خود زندگی کی موجودگی کا ثبوت نہیں سمجھا جاتا۔

نئی تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے Science Advances میں شائع ہوئے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسلیدس پر ممکنہ زندگی کی تلاش کے لیے مزید مشاہدات اور مستقبل کے خلائی مشنز انتہائی اہم ہوں گے۔

مزید خبریں

Back to top button