سعودی عرب کی جانب آنے والے 5 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ، ریاض ایئرپورٹ سخت شرائط کے ساتھ کھول دیا گیا

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ مدینہ منورہ اور سعودی عرب کے مشرقی علاقوں کی جانب آنے والے 5 ڈرونز کو فضائی دفاعی کارروائی کے دوران تباہ کر دیا گیا۔ تاہم حکام کی جانب سے ممکنہ نقصانات یا ڈرونز کے ماخذ سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
اتحادی افواج کے ترجمان کے مطابق ڈرونز کو اپنے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی نشانہ بنایا گیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اور خطے میں سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے کشیدگی برقرار ہے۔
دوسری جانب یمن میں حوثی ملیشیا کے خلاف آپریشن ’’فجر الیمن‘‘ بھی جاری ہے۔ یمنی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کارروائیوں میں 200 حوثی جنگجو ہلاک کیے گئے، جبکہ اس عرصے میں حوثی ٹھکانوں پر 744 حملے کیے گئے۔
یمنی فوج کے ترجمان کرنل ماجد النزیلی کے مطابق کارروائیوں کے دوران حوثی ملیشیا کے کمانڈ سینٹرز، جنگجوؤں اور اسلحے کے گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ تعز میں حوثی ملیشیا کی پیش قدمی بھی روک دی گئی ہے۔
ادھر حوثی باغیوں کے حالیہ حملوں کے بعد 10 اکتوبر سے عارضی طور پر بند کیے گئے سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو محدود فضائی آپریشنز کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے تازہ نوٹم کے مطابق ریاض ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمد اور روانگی کے لیے متعلقہ حکام سے پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ہنگامی حالات میں ریاض ایئرپورٹ کو متبادل ہوائی اڈے کے طور پر استعمال کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
خطے میں جاری کشیدگی کے باعث سعودی عرب میں فضائی سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں، جبکہ ایئرپورٹ پر پروازوں کی بحالی کو سخت شرائط سے مشروط کیا گیا ہے۔



