کہرام مچ گیا،عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت117ڈالر فی بیرل سے تجاوزکرگئی

تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کو لاحق خطرات بتائے جا رہے ہیں۔ ایرانی سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں ہفتے آبنائے ہرمز میں سات آئل ٹینکرز حملوں کا نشانہ بنے یا بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے۔
ایران کے پاسداران انقلاب کی بحریہ کے مطابق دو سپر ٹینکرز، جن پر مجموعی طور پر 45 لاکھ بیرل تیل لدا ہوا تھا، غیر مجاز جنوبی راستے پر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد ناکارہ ہوگئے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کی تفصیلات فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں ہیں۔
دوسری جانب یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب میں آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ اور دھران میں اس کے ہیڈکوارٹر پر حملوں کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان واقعات کے بعد آرامکو کو عملہ نکالنا پڑا، جبکہ امریکا نے ریاض سے اپنے سفارتی عملے کو بھی واپس بلا لیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے خلاف ایک اور بڑے فوجی آپریشن کے امکان کا ذکر کیا۔ ان کے بیان اور خطے میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی میں مزید بے یقینی پیدا کردی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں تیل کی تنصیبات کو مزید نقصان پہنچا اور رسد متاثر ہوئی تو خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنگی خطرات کی انشورنس کی شرح بھی ایک فیصد سے کم سطح سے بڑھ کر 10 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس سے ہر بیرل پر تقریباً 7 ڈالر اضافی لاگت پڑنے کا خدشہ ہے۔



