خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے دورِحکومت کا18ارب46کروڑروپےکامالی بے ضابطگیوں کامعاملہ سامنے آگیا

آڈٹ پیراز کے مطابق ناقص منصوبہ بندی اور کمزور انتظامی نظام کے باعث سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود کمپنی صنعتی مالکان کو لیز پر دی گئی اراضی کے واجبات کی مد میں 2 ارب 8 کروڑ 49 لاکھ روپے وصول کرنے میں ناکام رہی۔
رپورٹ کے مطابق 2024 میں متعارف کرائی گئی لیز تجدید پالیسی کے تحت کمرشل اراضی کے معاہدوں کی تجدید نہ ہونے سے قومی خزانے کو 62 کروڑ 98 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔ اسی طرح بونیر، مہمند اور جلوزئی میں سرکاری اراضی واگزار نہ کرانے کے باعث ایک ارب 7 کروڑ 74 لاکھ روپے کے نقصان کی نشاندہی کی گئی۔
آڈٹ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ کمرشل اراضی غیر قانونی طور پر صنعتی مقاصد کے لیے الاٹ کرنے سے سرکاری خزانے کو 17 کروڑ 41 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق ہری پور میں الحدید انجینئرنگ کو 10 ایکڑ پر مشتمل پلاٹ نمبر 185، 186، 187 اور 190 الاٹ کیے گئے، تاہم متعلقہ رقم وصول نہ کیے جانے کے باعث خزانے کو 49 کروڑ 78 لاکھ روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
آڈٹ میں کمپنی کے ممکنہ واجبات کا تخمینہ 14 ارب روپے لگایا گیا ہے، جسے کمپنی کی کاروباری سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں سامنے آنے والے انکشافات نے کمپنی کے مالیاتی نظم و نسق، سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ اور واجبات کی وصولی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تاہم آڈٹ میں نشاندہی کی گئی بے ضابطگیوں اور نقصانات کی حتمی ذمہ داری کا تعین متعلقہ حکام کی جانچ پڑتال اور کارروائی سے ہوگا۔



