پاکستان میں کرکٹ ٹیلنٹ کی بھرمار، سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے، محسن نقوی کا دعویٰ
خواتین کی کرکٹ کے فروغ کے لیے اگلے سال ویمن کرکٹ چیمپئن شپ کرانے کا منصوبہ

صوبائی دارالحکومت لاہور میں پی سی بی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر طویل عرصے سے تنقید کی جاتی رہی ہے، تاہم کھلاڑیوں کی تیاری اور ملک میں کرکٹ کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دو سال قبل قومی ٹیم میں شامل کرنے کے لیے نئے کھلاڑیوں کی دستیابی ایک مسئلہ تھی، لیکن اب توجہ ملک میں موجود ٹیلنٹ کو تلاش کرنے، نکھارنے اور بہتر انداز میں استعمال کرنے پر مرکوز ہے۔ اس سلسلے میں عاقب جاوید اور دیگر افراد نے بھی بہت محنت کی ہے۔
چیئرمین پی سی بی کے مطابق پہلی مرتبہ اسکول کرکٹ کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے تحت لاہور میں 1400 اسکولوں کی ٹیمیں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے سال اسکول کرکٹ ٹیموں کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ اسکول کرکٹ شروع کرنے کا مقصد نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کے مواقع فراہم کرنا اور مستقبل میں قومی ٹیم کے لیے نئے کھلاڑی تیار کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال سے پی سی بی جیتنے والی ٹیم کو 2 کروڑ روپے جبکہ رنر اپ ٹیم کو ایک کروڑ روپے انعام دے گا۔ انعامی رقم سے ٹیموں کی حوصلہ افزائی اور کرکٹ مقابلوں میں دلچسپی بڑھانے میں مدد ملے گی۔چیئرمین پی سی بی نے مزید کہا کہ اگلے سال سے ویمن کرکٹ چیمپئن شپ منعقد کرانے کا بھی منصوبہ ہے، جس کا مقصد خواتین کی کرکٹ کو فروغ دینا اور کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مزید مواقع فراہم کرنا ہے۔



