چھاتی کے سرطان سے آگاہی، زرداری اور شہباز شریف کی خواتین سے بروقت طبی مشورہ لینے کی اپیل

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) صدرِ مملکت آصف علی زرداری، خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے چھاتی کے سرطان سے آگاہی کے عالمی دن پر خواتین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی صحت میں کسی بھی غیر معمولی تبدیلی یا تشویش کی صورت میں بلا تاخیر مستند طبی ماہرین سے رجوع کریں۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ چھاتی کا سرطان پاکستان میں ہزاروں خاندانوں کو متاثر کرتا ہے اور اس کے اثرات صرف مریضہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خاندان کی سماجی اور جذباتی زندگی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
انہوں نے خواتین کو اپنی صحت میں ہونے والی تبدیلیوں پر توجہ دینے اور بروقت طبی مشورہ حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ صدرِ مملکت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خاندان اور معاشرہ ایسا ماحول فراہم کریں جہاں خواتین اپنے صحت کے مسائل بلا جھجک بیان کرسکیں اور خوف یا ہچکچاہٹ کے بغیر طبی سہولیات حاصل کریں۔
آصف علی زرداری نے چھاتی کے سرطان سے متاثرہ خواتین اور علاج مکمل کرنے والی مریضات کو جذباتی، سماجی اور خاندانی تعاون فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ چھاتی کے سرطان سے آگاہی، بروقت تشخیص، معیاری علاج اور مریضوں کی نگہداشت انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ حکومت کا عزم ہے کہ کوئی بھی پاکستانی خاتون علاقے یا مالی وسائل کی کمی کے باعث بروقت اور معیاری علاج سے محروم نہ رہے۔
وزیراعظم کے مطابق حکومت وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں کے تعاون سے بنیادی صحت کی سہولیات اور سرطان کے خصوصی علاج تک رسائی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں طبی سہولیات تک محدود رسائی کے پیش نظر وہاں کی خواتین کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز چھاتی کے سرطان کی علامات، خود معائنے، بروقت طبی مشورے اور متعلقہ طبی مراکز سے رجوع کرنے کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ بنیادی مراکزِ صحت کے عملے کو ابتدائی تشخیص کے حوالے سے تربیت دینے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں قائم وفاقی مرکز برائے اسکریننگ و تشخیص مفت ادویات فراہم کرنے کے ساتھ مشتبہ مریضوں کو مزید علاج کے لیے متعلقہ مراکز تک پہنچانے میں معاونت کرتا ہے۔ حکومت صحتِ عامہ کے پروگراموں اور نجی تنظیموں کے تعاون سے بھی اسکریننگ کی سہولیات تک رسائی بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔
انہوں نے خاندانوں، ذرائع ابلاغ، مذہبی رہنماؤں، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور طبی ماہرین سے اپیل کی کہ چھاتی کے سرطان سے متعلق خاموشی اور جھجک ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور خواتین کو بروقت طبی معائنے اور علاج کی ترغیب دیں۔
خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ خواتین کو اپنی صحت کو ترجیح دینی چاہیے اور کسی بھی تشویش کی صورت میں مستند طبی ماہرین سے رجوع کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ چھاتی کے سرطان سے متاثرہ خواتین کو اس مشکل مرحلے میں خاندان اور معاشرے کی بھرپور حمایت درکار ہوتی ہے۔ آصفہ بھٹو زرداری نے ڈاکٹروں، نرسوں، طبی کارکنوں، رضاکاروں، مریضوں کی معاون تنظیموں اور ذرائع ابلاغ کی خدمات کو سراہتے ہوئے درست معلومات عام کرنے اور اس مرض پر کھل کر بات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے ایسا ماحول تشکیل دینا ضروری ہے جہاں کوئی خاتون علاج کے حصول یا بیماری کا سامنا کرتے ہوئے خود کو تنہا محسوس نہ کرے۔



