مٹھی:لڑکیوں کو بلیک میل کرنے والے مبینہ گروہ کا انکشاف،ایک ملزم گرفتار

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تھرپارکر کے ضلعی ہیڈکوارٹر شہر مٹھی میں لڑکیوں کو مبینہ طور پر بلیک میل کرنے اور آدھی رات کے وقت گھروں میں داخل ہونے والے ایک گروہ کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ رات دیر گئے ایک شہری کے گھر میں داخل ہونے والے مبینہ گروہ کے ایک رکن کو اہل خانہ نے پکڑ لیا، جسے تشدد کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ مٹھی تھانے میں نریش کمار مہیشوری کی جانب سے درخواست جمع کرائی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ رات گئے آٹھ افراد ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ اہل خانہ کے جاگ جانے پر بیشتر ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ ایک شخص دانیال ولد چیلارام سوٹہڑ کو پکڑ لیا گیا، جسے بعد ازاں پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ درخواست کے مطابق ملزمان سے مزاحمت کے دوران گھر کے مالک نریش کمار مہیشوری زخمی ہوگئے، جنہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ متاثرہ فریق اور بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ میں متعدد لڑکیوں کی تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں، جن کے ذریعے مبینہ طور پر انہیں بلیک میل کیا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کے قبضے سے ملنے والا تمام مواد شہریوں کی موجودگی میں حذف کیا جائے، جس کے بعد ہی کسی قسم کی بات چیت ممکن ہو سکے گی۔ شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مٹھی شہر کے بعض بااثر خاندانوں سے تعلق رکھنے والے آوارہ نوجوان بھی اس گروہ میں شامل ہیں، جبکہ کچھ بااثر حلقے معاملے کو روایتی جرگہ یا راجوانہ طریقے سے نمٹانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مٹھی کے گرلز ڈگری کالج میں بھی اس مبینہ گروہ کی مداخلت سے متعلق باتیں سامنے آئی ہیں، جبکہ ماضی میں تعینات ایک پرنسپل کے تبادلے کے حوالے سے بھی مختلف خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ملزمان کے موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات کا فرانزک معائنہ کیا جائے اور اگر الزامات ثابت ہو جائیں تو ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔



