مجتبیٰ خامنہ ای اصل ہدف تھے، میزائل حملے میں علی خامنہ ای شہید ہوئے، تہران کے میئر کا دعویٰ

تہران (ویب ڈیسک) تہران کے میئر علی رضا زکانی نے دعویٰ کیا ہے کہ 28 فروری کو ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا باعث بننے والے میزائل حملے کا اصل ہدف ان کے جانشین مجتبیٰ خامنہ ای تھے۔
سٹوڈنٹ نیوز نیٹ ورک کو دیے گئے انٹرویو میں علی رضا زکانی کا کہنا تھا کہ میزائل نے عین اس عمارت کو نشانہ بنایا جہاں مجتبیٰ خامنہ ای مقیم تھے، اس لیے حملے کا بنیادی ہدف وہی تھے۔
تہران کے میئر کے مطابق حملے کے نتیجے میں مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے، جبکہ آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہلخانہ جاں بحق ہوگئے۔
علی رضا زکانی نے بتایا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ زہرا حداد کا معمول تھا کہ وہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 7 بجے کام کے لیے گھر سے روانہ ہوتی تھیں، تاہم حملے کے روز طبیعت ناساز ہونے کے باعث وہ گھر پر ہی موجود تھیں۔
رپورٹ کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا رہبرِ اعلیٰ مقرر کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ مذکورہ حملے کے حوالے سے ایرانی حکام کے بیانات کے مطابق 28 فروری 2025 کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے رہائشی کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ تہران کے میئر نے اب دعویٰ کیا ہے کہ اس کارروائی کا اصل ہدف مجتبیٰ خامنہ ای تھے۔



