بدین میں زرعی اور پینے کے پانی کی قلت کے خلاف ضلع بچاؤ تحریک کا ہنگامی اجلاس

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانوڈاٹ پی کے)بدین میں زرعی اور پینے کے پانی کی قلت کے خلاف ضلع بچاؤ تحریک کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں سعودی عرب سے میر نور احمد ٹالپر، کراچی سے خدا ڈنو شاہ ویڈیو لنک کے ذریعے جبکہ بدین ضلع کے مختلف علاقوں سے آبادگار حنیف نظامانی علی احمد اڈھیجو حاجی محمد ایوب لغاری، میر پرویز آرائیں میر عارف ٹالپر، سید قمبر شاہ، حاجی شاہ، ایوب چاوڑو، ایڈووکیٹ فیاض لغاری اور دیگر نے شرکت کی اجلاس میں پنجاب کی جانب سے پانی پر مبینہ ڈاکے، سکھر بیراج پر پانی کی غیر شفاف تقسیم اور علی پور کے مقام سے پھلیلی کینال کا پانی غیر قانونی طور پر دوسری نہر میں منتقل کرنے کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا اجلاس میں متفقہ طور پر طے پایا کہ 16 جون بروز منگل ایم ڈی سیڈا کے دفتر کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پانی پر مبینہ ڈاکے کے خلاف 8 جون بروز پیر نوتکانی موڑ پر کراچی۔جھڈو روڈ بند کرکے دھرنا دیا جائے گا، جبکہ 9 جون بروز منگل راجو خانانی میں دھرنا دے کر سڑک بلاک کی جائے گی۔ اس کے بعد 13 جون بروز ہفتہ تلہار میں حیدرآباد بدین روڈ بند کیا جائے گا اور 16 جون کو حیدرآباد میں ایم ڈی سیڈا کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا جائے گا
اجلاس میں پنجاب کی جانب سے سندھ کے پانی پر مبینہ ڈاکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت اور بلاجواز خاموشی کے باعث ارسا کے ساتھ مل کر پنجاب سندھ کے پانی پر قبضہ کر رہا ہے۔ اجلاس کے شرکاء نے الزام عائد کیا کہ محکمہ آبپاشی سندھ کا نااہل سیکریٹری سکھر بیراج سے کوٹری بیراج کے لیے مطلوبہ پانی نہیں چھوڑ رہا، جبکہ کوٹری بیراج کا چیف انجینئر بھی سکھر بیراج سے کوٹری بیراج تک پانی کی فراہمی یقینی بنانے میں ناکام ہے اجلاس میں مزید کہا گیا کہ سیڈا کے ایم ڈی منصور میمن اور ایریا واٹر بورڈ کے ڈائریکٹر عبدالواحد کنڈھر مبینہ طور پر پھلیلی کینال کا پانی علی پور کے مقام سے دوسری نہر میں منتقل کرکے دونوں اصل نہروں کو ختم کرنا چاہتے ہیں اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ ڈائریکٹر عبدالواحد کنڈھر اور ایم ڈی سیڈا منصور میمن کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹایا جائے اور علی پور کے مقام پر پھلیلی کینال کے پانی کی مبینہ غیر قانونی منتقلی کو فوری طور پر روکا جائے۔



