گورنر راج لگے یا نہ لگے، کے پی کے حالات بہتر کرنا ہوں گے، اختیار ولی

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے) وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ گورنر راج لگے یا نہ لگے، خیبرپختونخوا کے حالات ہر صورت بہتر کرنا ہوں گے۔
رکن قومی اسمبلی ثمر بلور کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے خیبرپختونخوا میں امن و امان اور منشیات کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔
💥 بڑی اور تہلکہ خیز خبر!
خیبر پختونخوا میں سیاسی ہلچل کی اطلاعات ہیں پارٹی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کابینہ ارکان کو مبینہ طور پر گزشتہ ایک سال کے تمام ٹھیکوں، منصوبوں اور لین دین کی فائلیں کل شام تک جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ pic.twitter.com/yGYS7E27cx
— Iranian Force (@MrImranPk) September 28, 2026
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن کا گراف مسلسل گر رہا ہے اور صوبے کے حالات بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ گورنر راج ایک آپشن تو ہو سکتا ہے، تاہم یہ کوئی چوائس نہیں۔ گورنر راج لگے یا نہ لگے، خیبرپختونخوا کے حالات بہتر کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا سے متعلق تمام حقائق آج میڈیا اور قوم کے سامنے رکھ دیے گئے ہیں۔
پریس کانفرنس میں ثمر بلور نے الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی کے دورِ حکومت میں صوبے میں چرس کی بھرمار ہو رہی ہے اور منشیات کا زہر پورے ملک میں پھیلایا جا رہا ہے۔
ثمر بلور کے مطابق صرف پشاور سے 960 کلوگرام منشیات پکڑی گئی ہے۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا میں منشیات کے نامی گرامی سمگلرز اور ڈیلرز پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ بیٹھے ہیں۔
واضح رہے کہ منشیات اور امن و امان سے متعلق ثمر بلور کے بیان میں بیان کردہ اعداد و شمار اور الزامات ان کے اپنے دعوے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔



