پاکستان میں فضائی سفر بھی تاخیر کا شکار، کوئی ایئرلائن 80 فیصد معیار پورا نہ کرسکی

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان ریلوے کے بعد اب فضائی سفر میں بھی وقت کی پابندی کا بحران سامنے آگیا، دو سالہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق 2026 میں کوئی بھی ایئرلائن بروقت روانگی کی مقررہ قانونی شرط پوری نہ کرسکی۔
رپورٹ کے مطابق 2026 کے دوران پاکستان میں صرف 67.5 فیصد پروازیں مقررہ وقت پر روانہ ہوئیں، جبکہ 2025 میں بروقت روانگی کی شرح 68.4 فیصد رہی تھی۔ اس سے قبل 2024 میں ملک کی پانچ ایئرلائنز کی 74.6 فیصد پروازیں وقت پر روانہ ہوئی تھیں۔
قانون کے تحت ایئرلائنز کے لیے کم از کم 80 فیصد پروازیں بروقت روانہ کرنا لازم ہے، تاہم 2026 میں کوئی بھی ایئرلائن اس معیار پر پورا نہ اتر سکی۔
رپورٹ میں پروازوں کی منسوخی سے متعلق کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ 2024 میں چار میں سے دو ایئرلائنز مقررہ معیار پر پوری اتری تھیں، جبکہ معیار پورا نہ کرنے والی ایئرلائنز کے خلاف سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کارروائی شروع کردی ہے۔
سی اے اے کے مطابق قوانین کی خلاف ورزی پر ایئرلائنز کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کے ساتھ جرمانے بھی کیے جارہے ہیں۔ پرواز میں تاخیر یا منسوخی کی صورت میں 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔
حکام کے مطابق جرمانے کی رقم اب ایئرلائن کے ڈپازٹ اکاؤنٹ سے وصول کی جاتی ہے، جبکہ بروقت پروازوں اور مسافروں کو بہتر سروس کی فراہمی کے لیے قانونی تقاضوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔



